تازہ ترین ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

ایران کا امریکی پابندیوں کو چکما دے کر چین سے اربوں ڈالر کی خفیہ تجارت، رائٹرز

کوئٹہ (ویب نیوز) ایران نے سخت امریکی پابندیوں کے باوجود چین کے ساتھ اربوں ڈالر کی تجارت کے لیے ایک خفیہ مالیاتی نظام قائم کر رکھا ہے، جس کے ذریعے ایرانی خام تیل کے بدلے چین سے ادویات، گاڑیاں، مواصلاتی آلات اور فوجی سازوسامان درآمد کیا جا رہا ہے۔ رائٹرز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اس نظام میں چینی خریدار ایرانی تیل کی ادائیگیاں براہِ راست کرنے کے بجائے ایک خصوصی فنڈ میں جمع کراتے ہیں، جسے ایرانی ادارے چینی مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس طریقہ کار سے تقریباً 2 سے ڈھائی ارب ڈالر کی تجارت ہونے کا اندازہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نظام کورونا وبا کے دوران ویکسین اور ادویات کی فراہمی سے شروع ہوا تھا، تاہم بعد میں اسے دفاعی اور شہری ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا اور گزشتہ سال لاکھوں ڈالر مالیت کے فضائی دفاعی آلات کی خریداری کے معاہدوں میں بھی یہ طریقہ استعمال ہوا۔ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور 2025 میں ایران کے 80 فیصد سے زائد تیل کا خریدار بھی چین ہی تھا۔ ماہرین کے مطابق بیجنگ اس نظام کے ذریعے امریکی ثانوی پابندیوں سے اپنے بینکوں کو بچاتے ہوئے ایران سے سستا تیل حاصل کر رہا ہے، تاہم چینی حکومت نے مخصوص نظام سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے یکطرفہ امریکی پابندیوں کو مسترد کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکا ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری پروگرام کے لیے مالی وسائل محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔