واشنگٹن ( صداقت انٹرنیشنل) امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیونے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے معاملے پر چین سے کسی قسم کی مدد نہیں مانگی اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ایک امریکی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی فریق کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کو عسکری کشیدگی کا مرکز نہیں بننا چاہیے اور وہ وہاں کسی قسم کی کشیدگی کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق چین بھی آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس کے حق میں نہیں ہے، جو کہ امریکا کے مؤقف سے ہم آہنگ ہے۔مارکو روبیو نے مزید کہا کہ سابق امریکی صدر ډونالډ ټرمپنے واضح کیا ہے کہ ایران امریکا کی داخلی سیاست کو استعمال کرتے ہوئے کسی کمزور معاہدے پر مجبور نہیں کر سکتا۔انہوں نے تائیوان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ تائیوان رضاکارانہ طور پر یا ریفرنڈم کے ذریعے چین میں شامل ہو، اور یہ معاملہ چینی قیادت کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق چین اسے “ری یونفیکیشن” کہتا ہے اور امریکا کا مؤقف ہے کہ اس عمل کو طاقت یا جبر کے ذریعے مسلط کرنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔
