واشنگٹن: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کو چھ ماہ مکمل ہوگئے، تاہم جنگ اب تک کسی فیصلہ کن انجام تک نہیں پہنچ سکی۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے دوران ایران، لبنان، خلیجی ممالک، اسرائیل اور امریکی فوج میں کم از کم 7 ہزار 900 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایران میں 3 ہزار 527، لبنان میں اسرائیلی حملوں سے 4 ہزار 350 افراد، خلیجی ممالک میں 28 افراد، جبکہ ایرانی حملوں میں 60 اسرائیلی اور 18 امریکی فوجی شامل ہیں۔ جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل نے ایران پر 3 ہزار 580 حملے کیے جبکہ ایران نے امریکی و اسرائیلی تنصیبات اور مفادات کو کم از کم 2 ہزار 53 مرتبہ نشانہ بنایا۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی اور جنگ کے چھ ماہ کے دوران روزانہ اوسطاً صرف 7 بحری جہاز گزر سکے، جبکہ جنگ سے قبل یہ تعداد 100 سے زیادہ تھی۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 26 اگست تک آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں سے متعلق 70 حملے یا واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں کم از کم 19 ملاح ہلاک ہوئے۔ امریکی وزیر دفاع کے مطابق ایران جنگ پر امریکا کے اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ امریکی میڈیا نے مجموعی ممکنہ لاگت 80 سے 100 ارب ڈالر تک بتائی ہے۔ جنگ کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا اور امریکی ہنگامی تیل ذخائر 1982ء کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔ دوسری جانب اسرائیلی حملوں کے باعث لبنان میں بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور اسرائیلی فوج بعض علاقوں میں اب بھی موجود ہے۔ جنگ کے سیاسی اثرات امریکا تک پہنچ گئے ہیں جہاں ایک حالیہ سروے میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت 33 فیصد تک گرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ فریقین کے درمیان جاری مذاکرات اب تک جنگ کے خاتمے کے لیے مستقل حل تلاش نہیں کرسکے۔
