تازہ ترین ۱ ستمبر ۲۰۲۶

امریکا جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی جھوٹی ضمانتیں دے رہا ہے، آبنائے پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے: ایران

کوئٹہ (ویب ڈیسک) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور امریکا جہازوں کو آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی جھوٹی ضمانتیں دے رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی میں شدت آنے کی صورت میں ایران فوجی جواب دے گا۔ قطری نشریاتی ادارے کے مطابق اپنے ویڈیو پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی فورسز آبنائے ہرمز سے امریکی حمایت یافتہ جہازوں کی گزرنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کچھ جہازوں کو آبنائے سے گزارنے میں کامیاب ہوا ہے تاہم ایرانی فورسز اب بھی آبنائے پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں اور اسے معمول کے مطابق کھولنے کی اجازت نہیں دیں گی۔ باقر قالیباف نے الزام عائد کیا کہ امریکا جہازوں کو جنوبی راستے سے گزرنے کی ضمانتیں دے رہا ہے جبکہ اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے کو استعمال کرنا چاہتا ہے، تاہم ایران ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ ایرانی اسپیکر کے مطابق ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ایک فوجی اقدام کے مترادف ہے اور اگر اس میں شدت آئی تو تہران فوجی جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا کی پالیسی یہ ہے کہ ایران خلیج سے تیل برآمد نہ کر سکے تو پھر کوئی بھی تیل برآمد نہیں کر سکے گا۔ باقر قالیباف نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اپنی فوجی صلاحیت دشمن کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے دوبارہ بحال کر رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی کے مرحلے میں ایرانی فوج نے پہلے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے دشمن کو اس نتیجے پر پہنچا دیا ہے کہ ایرانی میزائلوں کو روکنا ممکن نہیں، جبکہ جنگ کے آئندہ مراحل میں ایران کو معیار اور تعداد دونوں اعتبار سے زیادہ برتری حاصل ہوگی۔ ایرانی اسپیکر کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔