کوئٹہ (ویب نیوز) عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ سابق شامی صدر بشارالاسد کے دور میں مشرقی شام کے علاقے دیر الزور میں تعمیر کیا گیا خفیہ جوہری ری ایکٹر اسرائیلی حملے سے تباہ ہونے سے قبل تقریباً مکمل ہوچکا تھا اور اس سے جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والا مواد تیار کیا جاسکتا تھا۔ آئی اے ای اے کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ مقام سے تقریباً 73 ٹن قدرتی یورینیم بھی برآمد ہوا ہے، جبکہ ری ایکٹر کا ایندھن شام میں ہی تیار کیا گیا تھا اور اس وقت کی حکومت نے جوہری سرگرمیاں عالمی ادارے سے چھپائی تھیں۔ ’الکبار ری ایکٹر‘ کے نام سے معروف یہ تنصیب ستمبر 2007 میں اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہوئی تھی، جبکہ عالمی جوہری ادارے کو ایک فیول فیبریکیشن پلانٹ اور یورینیم کے فضلے سمیت دیگر غیر اعلانیہ مقامات کے شواہد بھی ملے ہیں۔ آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ شامی حکومت ان سرگرمیوں کو دنیا سے پوشیدہ رکھنا چاہتی تھی، تاہم موجودہ عبوری حکومت کی جانب سے مشتبہ مقامات تک رسائی دینے کے فیصلے کو انہوں نے سراہا ہے۔
