تازہ ترین ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

افغان طلبہ کو تعلیم سے محروم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، اے این پی

کوئٹہ (ویب نیوز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے کے حق سے محروم کرنے اور انہیں افغانستان واپس جانے پر مجبور کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر فوری نظرِثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اے این پی نے کہا ہے کہ ملک کے تمام علمی مراکز میں پہلے سے داخل افغان طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دے کر ان کے تعلیمی مستقبل کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان دہائیوں پر محیط تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی، لسانی اور انسانی رشتے قائم ہیں، جنہیں وقتی سیاسی اختلافات یا سفارتی کشیدگی کی بنیاد پر متاثر کرنا درست نہیں، سیاسی معاملات اور باہمی اختلافات کا بوجھ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبہ کے مستقبل پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ اے این پی کے مطابق افغان طلبہ نے پاکستانی تعلیمی اداروں میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم پر وقت، وسائل اور محنت صرف کی ہے، اس لیے دورانِ تعلیم انہیں واپس بھیجنے سے ان کا تعلیمی مستقبل متاثر ہونے کے ساتھ منفی انسانی اور سماجی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ پارٹی نے حکومت پر زور دیا کہ معاملے کو انسانی، تعلیمی اور قانونی بنیادوں پر دیکھتے ہوئے ایسا حل نکالا جائے جس کے تحت پہلے سے زیرِ تعلیم افغان طلبہ بلا تعطل اپنی تعلیم مکمل کرسکیں اور تعلیم کو وقتی سیاسی کشیدگی اور سفارتی اختلافات کی سزا نہ بنایا جائے۔