کوئٹہ (ویب نیوز) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں عملی طور پر اقتدار میں موجود طالبان حکام کی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے حمایت جاری ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ 10 اگست کو جاری کی گئی، جس میں جنوبی ایشیا میں شدت پسند گروہوں کے بڑھتے ہوئے خطرے اور پاکستان، افغانستان کے درمیان سرحد پار حملوں کے باعث علاقائی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان عوامی سطح پر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کی تردید کرتے ہیں، تاہم رکن ممالک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع شدت پسند گروہوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے، جس سے خطے کو مزید سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے اجرا پر پاکستان اور افغانستان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
