کوئٹہ(ویب نیوز)امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے دوبارہ قیام اور 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد القاعدہ نے افغانستان میں دوبارہ تربیتی مراکز قائم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ امریکی و مغربی انٹیلی جنس حکام اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہوں نے افغانستان میں کم از کم 8 تربیتی مراکز قائم کیے، جبکہ داعش سمیت دیگر مسلح تنظیموں کی موجودگی بھی ملک کے 34 میں سے کم از کم 14 صوبوں میں سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال 11 ستمبر 2001 سے قبل کے دور سے مختلف ہے، کیونکہ اس وقت القاعدہ کی توجہ امریکا اور اس کے اتحادیوں پر بڑے حملوں کی منصوبہ بندی پر تھی، جبکہ موجودہ شدت پسند گروہوں کی توجہ زیادہ تر مقامی اور علاقائی تنازعات پر مرکوز ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان بھی محتاط ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے ایسی سرگرمیاں دوبارہ شروع نہ ہوں جن سے عالمی طاقتوں کی توجہ ان کی حکومت کی جانب مبذول ہو۔
