تازہ ترین ۱۶ اگست ۲۰۲۶

افغانستان ازبکستانی اور چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے، عزیزی

کابل (ویب نیوز) وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی نے کہا ہے کہ افغانستان ازبکستان اور چین کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے، جبکہ کان کنی، زراعت، پروسیسنگ، توانائی، مشینری، پیداوار اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بات ترمذ عالمی تجارتی مرکز میں منعقدہ سرخان دریائے۔چین تجارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں ازبکستان کے نائب وزیراعظم جمشید خواجہ اوف، چین کے وزیر ثقافت، سرخان دریائے کے گورنر اولوغ بیک قاسیموف، بلخ کے گورنر مولوی محمد یوسف وفا، تاشقند میں افغان سفیر مولوی عبدالغفار بحر اور افغانستان کے نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ عزیزی نے افغانستان، ازبکستان اور چین کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کے فروغ، نئے ٹرانزٹ کوریڈورز کے قیام اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں افغانستان اور ازبکستان کے تعلقات اقتصادی تعاون کے نئے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین افغانستان کا اہم اقتصادی شراکت دار ہے اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے چین اور خطے کے دیگر ممالک کو افغانستان کی برآمدات بڑھانے کے لیے ازبکستان کے تجارتی و ٹرانزٹ نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔ عزیزی نے کہا کہ مشترکہ سرمایہ کاری اور خام مال کی پروسیسنگ سے خطے کے ممالک کے لیے پائیدار اور باہمی مفادات کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ بلخ کے گورنر مولوی محمد یوسف وفا نے بھی افغانستان اور ازبکستان کے دوستانہ تعلقات اور بلخ میں سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔