تازہ ترین ۱۴ اگست ۲۰۲۶

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے برطانیہ کو ’اسلامی جمہوریہ‘ قرار دے دیا

لندن (ویب نیوز) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے برطانیہ پر طنز کرتے ہوئے اسے ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ قرار دیا ہے، جس پر برطانوی یہودی تنظیموں اور سابق برطانوی وزیراعظم کے چیف آف اسٹاف سمیت مختلف شخصیات نے شدید تنقید کرتے ہوئے بیان کو اسلاموفوبیا اور تقسیم پیدا کرنے والی زبان قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو نے ایک اسرائیلی پوڈکاسٹ میں برطانیہ کے اسرائیل سے متعلق میڈیا کوریج پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ برطانیہ میں اسرائیل کے حق میں مثبت کوریج تلاش کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے پیش گوئی کی تھی کہ جوہری ہتھیار رکھنے والی پہلی اسلامی جمہوریہ برطانیہ ہوگی، جبکہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ ایران میں ایسی کوئی دوسری اسلامی جمہوریہ نہ ہو۔ برطانوی اور آئرش یہودی تنظیم موومنٹ فار پروگریسو جوڈازم نے نیتن یاہو کے بیان کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان برطانیہ میں پہلے سے موجود یہود دشمنی، مسلم مخالف نفرت اور سماجی تقسیم کے ماحول کو مزید خراب کرسکتی ہے۔ سابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے چیف آف اسٹاف گیون بارویل نے بھی بیان کو ’’کھلی اسلاموفوبیا‘‘ قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو پر تنقید کی۔