پاکستان ۱۲ مئی ۲۰۲۶

آبنائے ہرمز کی بندش کے نام پر پاکستان میں غریب عوام پر مہنگائی کی قیامت ڈھا دی گئی، مولانا فضل الرحمن شہباز شریف کو کہیں بھی حکمران نہیں سمجھا جارہا، حکومت بے بس اور اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہے،مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد (ڈیلی صداقت ویب نیوز)میں خون کی جھیل میں کھڑا ہوکر آپ سے مخاطب ہوں، جمعی علما اسلام کے اکابرین اور پارلیمنٹ کے ممبران دہشت گردی کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں اس کے باوجود جمعی علما اسلام اور تمام مکاتب فکر آئین اور ملک کے ساتھ کھڑے ہیں، پندرہ بیس آپریشنز کے باوجود حالات قابو نہیں آرہے بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق حالات مزید خرابی کا شکار ہوگئے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ جنگ کے دوران ہمارے دفاعی اداروں نے جو کارکردگی دکھائی ہم نے اسے نہیں چھپایا نہ آج چھپاتے ہیں ان خیالات کا اظہار سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود کسی ملک کی پٹرولیم قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑا صرف پاکستان میں کیوں مہنگائی عروج پر پہنچادی گئی ہے؟ انڈیا ایران افغانستان کوئی متاثر نہیں ہوا لیکن ہم نے عوام پر قیامت برپا کردی آخر ماہرین معیشت کہاں ہیں؟ ہم نے موجودہ صورتحال میں پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس کی بات کی لیکن حکومت اس تجویز سے راہ فرار اختیار کررہی ہے، کیوں ہمیں حالات سے آگاہ نہیں کیا جارہا، آج دنیا میں شہباز شریف کو ملک اور بیرون ملک کہیں بھی حکمران نہیں سمجھا جارہا وہ صرف قانون سازیاں کروانے کے لئے ہیں، آج ملک میں آئین کو مذاق بنادیا گیا ہے حکومت بے بس ہے اور اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہے، آج میرا آئین غیر محفوظ ہے اوپر تلے ترامیم لاکر اس کا حلیہ بگاڑا جارہا ہے، اب اس آئین کو متفقہ شکل کیسے دے سکتے ہیں؟ پیپلز پارٹی سے کہوں گا کہ وہ آئین کے تحفظ کے لئے مضبوط کردار ادا کرے ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ آج کے پی میں سیکیورٹی اہلکار محفوظ نہیں ہیں پورے صوبے میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہیں، بنوں میں پولیس اسٹیشن اڑادیا گیا، وانا میں پورے قلعے کو اڑادیا گیا جس کے نتیجے میں فوجی جوان شہید ہوئے ہیں۔ جو مقامات تحفظ کے ضامن تھے آج انہیں بھی تحفظ حاصل نہیں ہے، مولانا ادریس کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں وہ سال بھر میں اٹھائیس سو طالب علموں کے استاد تھے وہ ایک علمی اثاثہ تھے اس کے باوجود انہیں شہید کیا گیا، وہ زندہ ہیں تمام شہدا زندہ ہیں، کے پی میں لوگ نقل مکانی کررہے ہیں وہاں امن و امان نہیں ہے لیکن قوم کو اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کیا جارہا، میرے اپنے علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت میں عوام محفوظ نہیں، کوئی سپاہی اور کوئی شہری محفوظ نہیں، آج ہمارا خون سستا ہوگیا ہے لیکن پٹرول مہنگا ہورہا ہے۔ اب تو نمایاں لوگوں نے اپنے علاقوں میں جانا چھوڑ دیا ہے وہ اپنی غمی خوشی یہاں اسلام آباد میں کرتے ہیں ہم بہت مشکلات جھیل کر آتے جاتے ہیں، ایران کے ساتھ دو ہزار پندرہ میں یورینیم کے حوالے سے ایک معاہدہ ہوا آج اسے ختم کرکے امریکا نئے معاہدے پر اصرار کررہا ہے اور اس بنیاد پر اس پر جنگ مسلط کرنے کا کیا معنی ہے، عرب دنیا نے امریکا ایران جنگ میں بہت تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا امریکا کی وجہ سے پورا خلیج غیر محفوظ ہوا لیکن ہم اسے نوبل انعام دینا چاہتے تھے یہ کس قسم کی پالیسیاں بنائی جارہی ہیں، آئین کھلواڑ بن چکا ہے، آئینی ترمیم کے باوجود اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کا آج تک آغاز بھی نہیں ہوسکا، یکم جنوری دوہزار اٹھائیس تک سود کے خاتمے کے لئے آئینی ترمیم کے باوجود اس پر کام کا آغاز تک نہیں ہوسکا۔ مدارس کو حکومت اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں ہم ان مدارس کا تحفظ کریں گے اور اس کے لئے لڑنا پڑا تو لڑیں گے بھی، ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ حالات خرابی کی طرف چلے جائیں۔ مدارس رجسٹریشن کا وفاق میں منظور شدہ قانون چاروں صوبوں سے منظور کروا کر نافذ کیا جائے ہمارے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی پاسداری کی جائے۔ مدارس آزاد رہیں گے ہم ان کا تحفظ کریں گے، ہمارے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔