کوئٹہ (صداقت ویب نیوز) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور محمود خان اچکزئی نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطہ اس وقت انتہائی نازک اور خطرناک صورتحال سے دوچار ہے اور اگر حکمرانوں نے دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو عالمی طاقتیں اس خطے کو جنگ کا میدان بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام بحرانوں کی بنیادی وجہ آئین سے انحراف، ناانصافی اور کرپشن ہے، جبکہ ملک کو درپیش مسائل کا حل صرف آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور عوام کے حقِ حکمرانی کو تسلیم کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد آئینی اداروں کو کمزور کرنے کی کوششوں کے پیش نظر تحریک تحفظ آئین پاکستان قائم کی گئی، جو عوامی قوت سے وجود میں آنے والی واحد سیاسی تحریک ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی عوام کو اپنے وسائل اور سرزمین پر آئینی حق دیا جائے تو ملک میں پائیدار استحکام قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے حوالے سے کسی بھی ممکنہ محاذ آرائی سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کا حل ہیں۔ انہوں نے عدلیہ، میڈیا اور پارلیمنٹ کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں مداخلت کرنے والا ہر شخص جوابدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، طاقت کے استعمال میں نہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کو بچانے کے لیے تمام قوتوں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے جمہوری نظام، عوامی نمائندگی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہوگا۔
