اسلام آباد (صداقت انٹرنیشنل) محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے اجلاس اور بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آئین، پارلیمنٹ، عدلیہ اور آزاد صحافت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، جن کے خلاف تحریک تحفظ آئین پاکستان بھرپور سیاسی تحریک چلائے گی۔انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے اراکین ایوان سے اٹھ جائیں تو کورم پورا نہیں ہوسکتا۔ پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ ہونا چاہیے جبکہ آزاد صحافت جمہوری نظام کی لائف لائن ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کی مضبوطی کیلئے اپوزیشن غیر مشروط حمایت دینے کو تیار ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر سنجیدگی دکھائی جائے، انہیں ڈاکٹروں کی تجویز کے مطابق اسپتال منتقل کیا جائے اور ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ سیاسی درجہ حرارت میں کمی آسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے یہ اقدامات نہ کیے تو ملک بھر میں بڑی سیاسی تحریکیں چلیں گی جن پر بعد میں پچھتاوا ہوگا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تمام منتخب نمائندوں نے آئین کے دفاع کا حلف اٹھایا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں آئین کا حلیہ بگاڑا جارہا ہے اور صحافت کے “پر کاٹ دیئے گئے ہیں”۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی طرف واپس آیا جائے اور اپوزیشن اراکین کو اظہارِ خیال کا مکمل حق دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں قومی اسمبلی کے بائیکاٹ پر ہیں اور عید کے بعد بھی یہ بائیکاٹ جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ اجلاس اگر اپوزیشن کے بغیر چلایا گیا تو دنیا میں پاکستان کا تاثر مزید خراب ہوگا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں بڑھتے ہوئے جرائم اور ڈاکوؤں کے واقعات انتہائی سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمران عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے تو پھر پشتونخوا وطن کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے پر مجبور ہوں گے۔اپوزیشن الائنس کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، مہنگائی، بے روزگاری اور بھوک و افلاس کے معاملات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز اور قومی اسمبلی کے ارکان نے کئی گھنٹوں تک تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں آئین، عدالتوں اور انصاف کے تحفظ کیلئے بھرپور مگر پُرامن تحریک چلائی جائے گی۔ ان کے بقول اس تحریک میں کسی کے خلاف گالم گلوچ یا غیر شائستہ زبان استعمال نہیں ہوگی بلکہ آئینی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے عوامی حقوق کا دفاع کیا جائے گا۔محمود خان اچکزئی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن جماعتوں نے “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگایا تھا، انہی کے ووٹوں سے پارلیمنٹ اور متفقہ آئین کو کمزور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹیمپ سے بھی کم حیثیت دی جارہی ہے، جس پر ملک کے سنجیدہ حلقوں کو تشویش ہے۔
