تازہ ترین ۱۷ ستمبر ۲۰۲۶

حوثیوں سے خفیہ رابطہ، امریکا کا یمن جنگ میں سعودی عرب کی براہِ راست فوجی مدد سے گریز

کوئٹہ(ویب نیوز) امریکا نے یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے سعودی عرب کی براہِ راست فوجی مدد سے گریز کیا ہے، جبکہ امریکی حکام اور حوثی قیادت کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں ملاقات کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ملاقات میں حوثیوں نے یقین دہانی کرائی کہ 2025 کی جنگ بندی برقرار ہے اور بحیرہ احمر میں امریکی بحری جہاز ان کے ہدف نہیں، تاہم سعودی عرب سے منسلک یا سعودی تیل لے جانے والے جہاز ممکنہ اہداف ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب حوثیوں کی مغربی یمن میں پیش قدمی اور باب المندب میں بحری آمدورفت کو لاحق خطرات کے باعث سعودی عرب پر حوثیوں سے سیاسی مذاکرات کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ سعودی عرب نے مکہ مکرمہ کی جانب حوثی ڈرون بھیجے جانے کا الزام عائد کیا جسے سعودی فضائی دفاع نے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ حوثیوں نے الزام مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا۔ حوثیوں نے سعودی ایف 15 طیارہ مار گرانے اور آرامکو تنصیب کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی کیے، تاہم ان دعوؤں کے آزادانہ شواہد سامنے نہیں آئے۔