مقامی ۱۵ ستمبر ۲۰۲۶

عوامی وسائل پر قبضہ گیری پشتون بلوچ اقوام کو کسی صورت قبول نہیں، احمد خان

کوئٹہ (ویب نیوز) افغان قومی موومنٹ کے سربراہ احمد خان نے عوامی وسائل پر مبینہ قبضہ گیری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو راہِ راست پر چلانے کے لیے حکمران اشرافیہ کو عوامی وسائل سے استفادے کے بجائے اقوام کے حقِ حاکمیت، اختیار اور اپنے وسائل پر حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اپنے بیان میں انہوں نے مائنز اینڈ منرلز سمیت عوامی املاک اور قدرتی وسائل پر قبضے کی کوششوں کو پشتون اور بلوچ اقوام کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران اشرافیہ کے ریاست کو عوام کے لیے ماں کے مانند قرار دینے کے دعووں کے برعکس زمینی صورتحال مختلف ہے، جہاں ریاستی نظام کو بارہا عوامی رائے، خودارادیت اور حقِ حاکمیت کے خلاف استعمال کیے جانے کے باعث مختلف اقوام محکومی، مایوسی اور بداعتمادی کا شکار ہیں۔ احمد خان نے کہا کہ پشتون اور بلوچ سرزمین کے معدنی و دیگر عوامی وسائل پر قبضے کی کوششیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں، ایک جانب اشرافیہ عوامی وسائل پر کنٹرول حاصل کرکے مراعات سے مستفید ہورہی ہے جبکہ دوسری جانب عام عوام اپنے ہی وسائل سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل پر قبضہ صرف معاشی استحصال نہیں بلکہ متعلقہ علاقوں کے عوام کو معاشی انحصار اور محرومی کی طرف دھکیلنے کی کوشش بھی ہے، جس سے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھنے اور تصادم کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ افغان قومی موومنٹ کے سربراہ نے مطالبہ کیا کہ پشتون اور بلوچ سرزمین پر موجود معدنی وسائل سے متعلق قبضے اور اختیار کے تمام اقدامات اور قوانین واپس لیے جائیں اور عوام کے حقِ حاکمیت اور اپنے وسائل پر مکمل اختیار کو تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معدنی اور دیگر قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کی جائے گی جس کے نتیجے میں عوام اپنے وسائل اور مستقبل سے متعلق فیصلوں کے حق سے محروم ہوں۔