مقامی ۱۵ ستمبر ۲۰۲۶

بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے مضبوط جمہوری اور عوامی نمائندگی ناگزیر ہے، عرفان خلجی

کوئٹہ (ویب نیوز) مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد عرفان خلجی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں متعدد سیاسی، انتظامی، معاشی اور سماجی رکاوٹیں حائل ہیں، جن میں روایتی وڈیرہ اور سرداری نظام، سیاسی اداروں کی کمزوری، میرٹ کے بجائے ذاتی و گروہی مفادات کو ترجیح دینا اور ایسے افراد کا اسمبلیوں تک پہنچنا بھی شامل ہے جو حقیقی معنوں میں عوامی اور سیاسی عمل سے جڑے ہوئے نہیں۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے مضبوط سیاسی ادارے، شفاف جمہوری عمل اور باصلاحیت و جوابدہ قیادت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ بلوچستان کے عوام بھی ایسی نمائندگی کے حق دار ہیں جو ان کے حقیقی مسائل کو سمجھتے ہوئے قانون سازی اور پالیسی سازی میں مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ سرداری یا وڈیرہ نظام سے وابستہ ہر فرد کو محض اس نسبت سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینا درست نہیں، اصل مسئلہ اختیارات کا ارتکاز، سیاسی اجارہ داری، میرٹ کی کمی اور عوامی شمولیت کے محدود مواقع ہیں، اسی طرح اسمبلی میں آنے والے ہر نئے یا غیر روایتی سیاسی فرد کو غیر مؤثر قرار دینے کے بجائے اس کی کارکردگی، اہلیت اور عوامی خدمت کو معیار بنایا جانا چاہیے۔ محمد عرفان خلجی نے کہا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے سیاسی عمل میں نوجوانوں، خواتین، تعلیم یافتہ طبقے، کاروباری افراد، محنت کشوں اور عام شہریوں کی مؤثر شرکت یقینی بنانا ہوگی، جبکہ میرٹ، شفاف انتخابات، مضبوط بلدیاتی نظام، معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی صوبے کو ترقی کی حقیقی راہ پر گامزن کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مستقبل کسی ایک طبقے، خاندان یا گروہ سے وابستہ نہیں بلکہ پورے عوام سے جڑا ہے، اس لیے اختلافات کو تصادم کے بجائے جمہوری مکالمے میں تبدیل کرکے ایسا سیاسی نظام تشکیل دینا ہوگا جہاں عوام کا ووٹ، میرٹ اور کارکردگی ہی قیادت کا اصل معیار ہوں۔