مقامی ۱۵ ستمبر ۲۰۲۶

کوئٹہ کا اپنا ہی رنگ — یہ کوئٹہ ہے!

کوئٹہ(ویب نیوز) سریاب روڈ پر مسلم کمرشل بینک میں ڈکیتی کے بعد ڈاکو فرار ہونے کے بجائے سڑک کے بیچ بیٹھ کر لوٹی ہوئی رقم گنتے رہے اور مبینہ طور پر وہاں موجود بعض لوگوں میں رقم بھی تقسیم کی گئی۔ نہ ڈاکوؤں میں جلدی نظر آئی اور نہ بعض شہریوں میں خوف، جیسے بینک ڈکیتی نہیں بلکہ کسی امدادی رقم کی تقسیم ہو رہی ہو۔ بظاہر یہ منظر مزاحیہ محسوس ہو سکتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک انتہائی سنجیدہ سوال ہے کہ اگر مسلح ڈاکو دن دہاڑے سڑک پر بیٹھ کر لوٹی ہوئی رقم گننے میں خود کو محفوظ سمجھیں تو قانون کا خوف اور ریاستی رِٹ کہاں ہے؟ سوال یہ نہیں کہ کوئٹہ میں ایسا منظر کیوں سامنے آیا، بلکہ یہ ہے کہ ایسی صورتحال پیدا ہی کیوں ہوئی؟