مقامی ۱۴ ستمبر ۲۰۲۶

بلوچستان مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا، میر عبدالرحیم جتک

کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور معروف قبائلی شخصیت میر عبدالرحیم جتک نے کہا ہے کہ بلوچستان مزید سیاسی، انتظامی اور معاشی تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا، صوبے کے عوام طویل عرصے سے مختلف مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، اس لیے ان کی آواز سننے اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں سے کوئٹہ آنے والے صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو سردار اختر جان مینگل سے محبت کی سزا نہیں دی جانی چاہیے اور جس سیاسی قیادت پر عوام اعتماد کرتے ہیں اس کے مینڈیٹ اور عوامی جذبات کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک حساس اور اہم صوبہ ہے، اس کے حالات کو مزید غیر مؤثر پالیسیوں کے ذریعے پیچیدہ بنانے کے بجائے سیاسی مفاہمت، باہمی اعتماد اور عوامی شمولیت کو فروغ دینا ہوگا۔ بلوچستان کے عوام اپنے حقوق، وسائل، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے جائز مطالبات رکھتے ہیں جنہیں طاقت یا دباؤ کے بجائے مذاکرات اور جمہوری طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ میر عبدالرحیم جتک نے صحافیوں کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافت معاشرے کا اہم ستون ہے اور صحافی عوام اور حکومتی اداروں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں، خصوصاً بلوچستان جیسے وسیع صوبے میں صحافی مشکل حالات اور محدود وسائل کے باوجود دور دراز علاقوں کے مسائل اجاگر کرکے انہیں ایوان اقتدار تک پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کے حقوق، تحفظ اور آزادی اظہار کے دفاع کو جمہوری معاشرے کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی اخبارات اور علاقائی صحافت کو درپیش مشکلات کا خاتمہ، صحافیوں کے معاشی مسائل کا حل اور انہیں پیشہ ورانہ تحفظ فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے اور آزاد صحافت کے بغیر معاشرے میں حقیقی اصلاحات ممکن نہیں۔ میر عبدالرحیم جتک نے کہا کہ بلوچستان کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے عوام کی خواہشات، جمہوری اصولوں اور سیاسی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے اور تمام سیاسی، سماجی و قبائلی حلقوں کو صوبے میں امن، ترقی، خوشحالی اور سیاسی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔