کوئٹہ(ویب نیوز) عوامی حلقوں نے بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں کمی نہ آنے اور پنجاب و سندھ سے آٹے کی ترسیل میں رکاوٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی ترسیل پر عائد پابندیاں فوری ختم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ آٹے کی قیمتیں بھی قوتِ خرید سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ اس وقت 20 کلو آٹے کا تھیلا تقریباً 3000، 50 کلو 7500 جبکہ 100 کلو کی بوری تقریباً 15 ہزار روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق پنجاب سے بلوچستان گندم کی ترسیل پر پابندی اور سندھ سے ترسیل میں مشکلات کے باعث گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہِ راست اثر آٹے کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ حکومت فوری طور پر ترسیل کی تمام رکاوٹیں دور کرے، فلور ملز کو مناسب نرخوں پر گندم فراہم کرے اور پنجاب و سندھ سے بلوچستان کو آٹے کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائے تاکہ غریب عوام کو سرکاری نرخوں پر سستا اور معیاری آٹا دستیاب ہوسکے۔
