کوئٹہ(ویب نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر اور ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا کی زیر صدارت ضلع کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی، صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں جنوبی پشتونخوا کے عوام اور پشتون قومی جرگے کے فیصلوں کی روشنی میں ضلع کوئٹہ میں جرگہ کمیٹی کی تشکیل اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ 30 اور 31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کو کوئٹہ میں منعقدہ تین روزہ پشتون قومی جرگے کے فیصلوں کے تحت جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع میں ضلعی سطح پر جرگے منعقد کیے جائیں گے، جن میں سیاسی و سماجی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، دانشوروں، وکلا، نوجوانوں، خواتین، مزدوروں، کسانوں، تاجروں، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ رہنماؤں نے کہا کہ جرگوں میں بدامنی، اغوا برائے تاوان، لوٹ مار، قتل و غارت، قبضہ گیری، شاہراہوں کی بندش، امن و امان، زمینوں، پہاڑوں اور جنگلات کی غیر آئینی و غیر قانونی منتقلی اور الاٹمنٹ، تجارت کی بندش اور دیگر معاشی، سماجی و قومی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا اور شرکا کی آرا و تجاویز کی روشنی میں متفقہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ضلع کوئٹہ کا جرگہ 17 ستمبر کو منعقد ہوگا اور اس کی تیاری آج سے شروع کی جائے گی، جبکہ عبدالقہار ودان نے کہا کہ ضلع کوئٹہ کے تمام جرگہ ممبران کو دعوت نامے پہنچائے جائیں گے۔ اجلاس میں کوئٹہ میں پشتون قومی جرگے کے کامیاب انعقاد پر پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ کوئٹہ کے لاکھوں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، صاف پانی، تعلیم، صحت، روزگار اور امن نایاب ہوتا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی رٹ اور سول اتھارٹی بھی کمزور ہو رہی ہے۔ انہوں نے تجارتی مراکز، مارکیٹوں، دکانوں اور بازاروں پر مختلف اداروں کے غیر قانونی چھاپوں اور تاجروں کے سامان کی مبینہ لوٹ مار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں غیر آئینی صورتحال نے سیاسی عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے، جب تک تمام ادارے متفقہ آئین پر عملدرآمد نہیں کریں گے، ملکی بحرانوں سے نجات ممکن نہیں۔
