کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی صدر قیوم بلوچ اور مرکزی سیکرٹری جنرل اللہ داد رند نے کہا ہے کہ 13 ستمبر بلوچستان کی صحافت کی تاریخ میں ایک نئے باب کے آغاز کا دن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 13 ستمبر کو کوئٹہ میں بلوچستان میڈیا فورم کے پہلے مرکزی اجلاس میں صوبے کے صحافیوں کو درپیش مسائل، ان کے بنیادی اور پیشہ ورانہ حقوق، مقامی پرنٹ میڈیا کے بقا اور تحفظ اور صحافت کو درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ صحافیوں کے حقوق اور مقامی اخبارات و میڈیا اداروں کے تحفظ کے لیے آئندہ کی مشترکہ جدوجہد کی حکمت عملی بھی طے کی جائے گی۔ قیوم بلوچ اور اللہ داد رند نے کہا کہ بلوچستان میڈیا فورم کا قیام کسی فرد، گروہ یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ بلوچستان کے صحافیوں، میڈیا کارکنوں اور مقامی پرنٹ میڈیا کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل، قانونی حقوق کے تحفظ اور صحافیوں کے درمیان اتحاد و ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے صحافی مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور انہیں معاشی، پیشہ ورانہ اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے ان مسائل کے مستقل اور مؤثر حل کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔ ان کے مطابق مقامی پرنٹ میڈیا بلوچستان کی آواز ہے اور اس نے ہمیشہ عوامی مسائل اور دور دراز علاقوں کی خبریں متعلقہ حکام تک پہنچائی ہیں، تاہم اس وقت مقامی اخبارات اور ان سے وابستہ صحافی و میڈیا کارکن شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی اجلاس میں کوئٹہ کے علاوہ مچھ، بولان، کچلاک، سبی، باغ، بختیار آباد، صحبت پور، ڈیرہ مراد جمالی، گوادر، تربت، پسنی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے صحافی، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور میڈیا کارکن شرکت کریں گے۔ فورم کے رہنماؤں نے زور دیا کہ فورم کا مقصد صحافیوں کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ رپورٹرز، کالم نگاروں، فوٹو جرنلسٹس، کیمرہ مینوں، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور دیگر میڈیا کارکنوں کو متحد کرکے مشترکہ مسائل کے لیے مشترکہ آواز بلند کرنا ہے۔
