مقامی ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام پر پی اے سی کے سخت سوالات، 15 ارب روپے سے زائد کے منصوبے کا حساب طلب

کوئٹہ (ویب نیوز)بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے مالی سال 2019-22 کے خصوصی آڈٹ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے کی نرسریوں، شجرکاری اور نگرانی کے نظام سے متعلق اٹھائے گئے آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اصغر علی ترین کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ 15 ارب روپے سے زائد مالیت کے اس منصوبے پر اب تک 6 ارب 35 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، تاہم گزشتہ تین برسوں کے دوران اس کی فزیکل پیش رفت صرف 12.43 فیصد جبکہ مالی پیش رفت 10 فیصد رہی ہے۔ آڈٹ حکام کے مطابق منصوبے میں افسران کے مسلسل تبادلے اور انتظامی عہدوں پر بروقت افسران کی تعیناتی نہ ہونا کام کی سست روی کی اہم وجوہات ہیں۔ کمیٹی نے خصوصی آڈٹ رپورٹ بروقت پیش نہ کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو باقی آڈٹ اعتراضات دور کرنے اور رپورٹس پیش کرنے کے لیے مقررہ مدت دی۔ اجلاس میں 70 نرسریاں قائم، ترقی یا اپ گریڈ کرنے کا ہدف مکمل نہ ہونے کے باعث 55.420 ملین روپے کے مالی نقصان سے متعلق آڈٹ اعتراض کا بھی جائزہ لیا گیا اور نرسریوں کی تعداد، تکمیل اور متعلقہ اداروں کے حوالے کیے جانے کی تفصیلات طلب کی گئیں۔ اسی طرح اور نظام مؤثر طور پر قائم نہ کیے جانے اور ضلعی رابطہ کمیٹیوں کے مؤثر کردار کے بغیر شجرکاری کی سرگرمیوں پر 1,236.719 ملین روپے خرچ کیے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ شجرکاری کے مقامات، اخراجات اور عملی نتائج کی متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے دوبارہ تصدیق کرائی جائے۔ کمیٹی کے رکن عبیداللہ گورگیج نے کہا کہ تمام نرسریوں کے وجود اور فعالیت کی شفاف انداز میں ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کے ذریعے تصدیق کی جائے گی اور خبردار کیا کہ اگر پی اے سی کی ہدایات پر عملدرآمد نہ ہوا تو معاملہ مزید کارروائی کے لیے نیب کو بھیجا جا سکتا ہے۔ پی اے سی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے کہا کہ کمیٹی مزید غیر ضروری تاخیر اور بار بار مہلت دینے کو برداشت نہیں کرے گی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ مقررہ مدت میں تمام ریکارڈ، جوابات اور رپورٹس پیش کی جائیں تاکہ عوامی پیسے کے استعمال، منصوبے کی کارکردگی اور آڈٹ اعتراضات سے متعلق معاملات کو شفاف انداز میں نمٹایا جا سکے۔