کوئٹہ (ویب نیوز) پاکستان نے واضح کیا ہے کہ معاہدۂ مکہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور وہ اس کے تمام تقاضوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل سہ فریقی دفاعی اتحاد ہے، تاہم فی الحال اس میں مزید کسی ملک کی شمولیت یا توسیع کے لیے کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔ سعودی عرب کی سرحدوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ معاہدہ فعال ہے اور پاکستان اس کی شقوں پر مکمل عمل کرے گا، تاہم حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی سے متعلق فریقین کے درمیان اس وقت کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہورہی۔ ترجمان کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ دفاعی تعلقات اور معاہدے اپنی جگہ موجود ہیں جبکہ سہ فریقی معاہدے کا عملی طریقہ کار ابھی تشکیل دیا جانا باقی ہے۔ اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ معاہدے میں کوئی ابہام نہیں اور کسی ایک رکن ملک پر مسلح جارحیت تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگی، جبکہ سعودی سرحدوں کے اندر ڈرون یا میزائل حملے کی صورت میں دفاعی معاہدہ فعال ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ معاہدۂ مکہ خالصتاً دفاعی اتحاد ہے جو ازخود کسی ملک پر حملے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ مشترکہ دفاع کے ذریعے ایک مضبوط رکاوٹ کا کام کرتا ہے، تاہم امید ہے کہ سفارتی کوششوں سے کشیدگی کم کی جائے گی۔
