کوئٹہ (ویب نیوز) کوئٹہ شہر میں چھوٹے اور بڑے گوشت کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں، جبکہ نرخ کنٹرول کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مقررہ نرخوں پر عملدرآمد نہ کرائے جانے کے باعث عوام مہنگے داموں گوشت خریدنے پر مجبور ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں، بالخصوص عالمو چوک، کینٹ روڈ، گل منڈی چوک، ڈبل روڈ اور جوائنٹ روڈ میں چھوٹے گوشت کی قیمت 2200 سے 2500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بغیر ہڈی کے بڑے گوشت کی قیمت 1300 سے 1500 روپے اور ہڈی سمیت بڑے گوشت کی قیمت 1100 سے 1300 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار عوام پر گوشت کی قیمتوں میں اضافے نے مزید بوجھ ڈال دیا ہے اور محدود آمدنی والے خاندانوں کے لیے گوشت خریدنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق اگرچہ بازاروں میں سرکاری نرخ نامے آویزاں ہیں، تاہم بعض دکاندار مبینہ طور پر من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں اور نرخ کنٹرول کمیٹی اس صورتحال کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نرخ کنٹرول کمیٹی کو فعال کیا جائے، تمام بازاروں میں گوشت کی قیمتوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے، گرانفروشی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور عوام کو مقررہ نرخوں پر گوشت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف نرخ نامے جاری کرنا کافی نہیں بلکہ بازاروں میں باقاعدہ چیکنگ اور عملی نگرانی بھی ضروری ہے تاکہ عوام کو من مانے نرخوں اور اضافی مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔
