مقامی ۹ ستمبر ۲۰۲۶

بلوچستان پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بل 2026 پر قائمہ کمیٹی میں تفصیلی غور، سرکاری افسران کی جوابدہی یقینی بنانے پر زور

کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں قائمہ کمیٹی برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا اجلاس ہوا جس میں اراکین کی باہمی منظوری سے مولانا نوراللہ کو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا، جنہوں نے بعد ازاں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں بلوچستان پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بل 2026 پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ بل کا مقصد صوبے میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی، نکاسی آب، گندے پانی کے مؤثر انتظام اور متعلقہ شعبوں کی ضابطہ کاری کے لیے جامع قانونی فریم ورک قائم کرنا ہے، جبکہ اس میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ذمہ داریوں کے تعین، زیرِ زمین پانی کے اخراج کو منظم کرنے، آبی ذخائر کے تحفظ، صوبائی زیرِ زمین پانی ریگولیٹری بورڈ اور ضلعی پانی و صفائی گروپس کے قیام سمیت مختلف تجاویز شامل ہیں۔ کمیٹی اراکین نے زور دیا کہ قانون کے تحت صرف عوام کو جوابدہ بنانے کے بجائے متعلقہ سرکاری افسران اور اہلکاروں کی ذمہ داریاں بھی واضح کی جائیں اور فرائض میں ناکامی کی صورت میں مؤثر کارروائی اور سزا کا واضح طریقہ کار وضع کیا جائے، جس میں بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کارروائی کی شق بھی شامل ہو۔ اراکین نے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گھروں اور نجی مقامات پر بورز کے ذریعے پانی کے بے دریغ استعمال کو بھی منظم کرنے پر زور دیا۔ کمیٹی چیئرمین مولانا نوراللہ نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے نزدیک یہ قانون عوامی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتا اور کمیٹی کی بنیادی ذمہ داری عوام کے حقوق اور مفادات کا تحفظ ہے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے بھی عوامی مفاد کے تحفظ، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، شفافیت اور ادارہ جاتی جوابدہی یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کوئٹہ واسا سمیت متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت سے متعلق قانون سازی میں عوامی مفاد، شفافیت، اداروں کی جوابدہی اور آبی وسائل کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔