اسلام آباد (ویب نیوز) سرپرست صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پائیدار قومی ترقی کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے اور پاکستان کی جمہوری طاقت، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی اس وقت تک مکمل طور پر حاصل نہیں کی جا سکتی جب تک خواتین اداروں، معیشت اور ملک کے مستقبل کی تشکیل میں مساوی کردار ادا نہ کریں۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام ’’پاکستان ویمن لیڈرشپ اینڈ پالیسی سمٹ 2026‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ خواتین کے لیے مالی معاونت اور سرمایہ تک رسائی آسان بنائی جائے۔ سرپرست صدر نے کہا کہ خواتین کو صرف ترقی کے ثمرات سے مستفید ہونے والی نہیں بلکہ کاروباری شخصیات، ماہرین، پالیسی سازوں، اختراع کاروں اور قائدین کے طور پر ترقی کے فعال محرکات بننا چاہیے، جبکہ ہر علاقے اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو تعلیم، مالی وسائل، ٹیکنالوجی، منڈیوں اور فیصلہ سازی تک مساوی رسائی فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے خواتین تک براہِ راست مالی امداد پہنچانے سے خاندانوں میں معاشی فیصلہ سازی کے حوالے سے ان کا کردار مضبوط ہوا ہے جو محتاجی سے بااختیاری کی جانب ایک اہم تبدیلی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے زور دیا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی کا بنیادی حصہ ہے، اس لیے مالی وسائل تک رسائی، ڈیجیٹل شمولیت، خواتین کی زیر قیادت کاروبار، محفوظ کام کی جگہیں، قیادت کی تربیت، رہنمائی اور منڈیوں سے مضبوط روابط کو عملی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں ہر خاتون اپنے کاروباری تصور کی صورت میں مالی معاونت حاصل کر سکے، منڈی تک رسائی رکھتی ہو اور اپنی صلاحیت و قابلیت کی بنیاد پر بغیر صنفی رکاوٹوں کے قیادت کے مواقع حاصل کر سکے۔ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم شائستہ اکرام اللہ اور سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو اس سفر میں منفرد تاریخی مقام حاصل ہے کیونکہ وہ مسلم اکثریتی ملک کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ سرپرست صدر نے کہا کہ مشترکہ مقصد ایسا نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جو رکاوٹیں دور کرے اور مساوی مواقع فراہم کرے تاکہ خواتین اعتماد کے ساتھ کاروبار قائم کریں، عزت کے ساتھ کام کریں، بااختیار انداز میں اداروں کی قیادت کریقں اور جمہوریت میں ان کی شرکت محض علامتی نہ ہو بلکہ نظام کا لازمی حصہ بنے۔ انہوں نے مالیاتی اداروں سے خواتین کے لیے سرمایہ تک رسائی آسان بنانے، تعلیمی اداروں سے متعلقہ مہارتیں فراہم کرنے اور نجی شعبے سے جامع اور باوقار کام کے ماحول تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیمبرز آف کامرس رہنمائی، روابط، منڈی تک رسائی اور خواتین کی زیر قیادت کاروباروں کی معاونت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب خواتین قیادت کرتی ہیں تو خاندان خوشحال ہوتے ہیں، جب خواتین معاشی زندگی میں مکمل کردار ادا کرتی ہیں تو قومیں ترقی کرتی ہیں اور جب خواتین عوامی پالیسی سازی میں حصہ لیتی ہیں تو جمہوریت مزید نمائندہ، مؤثر اور منصفانہ بنتی ہے۔ سرپرست صدر نے پاکستان ویمن لیڈرشپ اینڈ پالیسی سمٹ 2026 کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اس موقع پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممتاز ارکان میں اعزازات اور تعریفی اسناد تقسیم کیں، جبکہ اسلام آباد چیمبر کی جانب سے انہیں بھی شیلڈ پیش کی گئی۔
