تازہ ترین ۸ ستمبر ۲۰۲۶

الفلاح قرآن انسٹی ٹیوٹ میں سلمان آصف نے ریاستِ مدینہ اور پاکستان پر لیکچر دیا

کوئٹہ (ویب نیوز) الفلاح قرآن انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ’’ریاستِ مدینہ اور پاکستان‘‘ کے عنوان سے خصوصی لیکچر کا انعقاد کیا گیا، جس سے ماہرِ تعلیم، والدین کے مشیر، مصنف اور کے سربراہ سلمان آصف صدیقی نے خطاب کیا۔ پروگرام میں الفلاح قرآن انسٹی ٹیوٹ کی طالبات کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اسلام آباد کے سواں گارڈن میں الفلاح قرآن انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منعقدہ خصوصی لیکچر کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس کی سعادت خنساء بلال نے حاصل کی، جبکہ ثمن زبیر نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعت پیش کی۔ بعد ازاں الفلاح قرآن انسٹی ٹیوٹ کی پرنسپل لبنیٰ حشمت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کا مقصد یہ جائزہ لینا ہے کہ پاکستان ریاستِ مدینہ کے تصور سے کس حد تک دور ہے اور اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں خصوصی مہمان سلمان آصف صدیقی نے تفصیلی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مدینہ دونوں اسلام کے نام پر حاصل ہوئے، ہمارے بزرگوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اگر انہیں ایک آزاد سرزمین عطا کی گئی تو اس میں اسلامی نظام قائم کیا جائے گا اور انفرادی و اجتماعی زندگی، عدلیہ اور دیگر تمام اداروں کو شریعت کے تابع رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ہمیں یہ پاک سرزمین عطا کردی، لیکن بدقسمتی سے ہم اللہ تعالیٰ سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا نہ کرسکے۔ سلمان آصف صدیقی نے کہا کہ مدینہ حاصل ہونے کے بعد رسول اکرم ﷺ نے آزادی کا جشن منانے کے بجائے اس سرزمین میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے قیام پر توجہ مرکوز کی۔ آپ ﷺ کو سرداری، دولت اور دیگر دنیاوی مراعات کی پیشکشیں کی گئیں، مگر آپ ﷺ نے انہیں مسترد کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں کی اصلاح اور ان میں توحید و ایمان کا بیج بونے کی جدوجہد کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ یہی توحید و ایمان کا تصور پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں بھی بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟‘‘ کا نعرہ بلند ہوا، لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس کے حقیقی مفہوم پر مطلوبہ توجہ نہیں دی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے اس تصور کو اپنے دلوں میں جگہ دی جائے اور پھر انہی اصولوں کے مطابق پاکستان کے ہر شعبے، بالخصوص عدلیہ اور دیگر اداروں کو اسلامی اصولوں کے تابع کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، اس لیے اس کی قدر کرنا اور اس کی ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر آج حالات ہماری خواہشات کے مطابق نہیں تو پاکستان سے بدگمان ہونے کے بجائے اصلاح اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔