تازہ ترین ۷ ستمبر ۲۰۲۶

سمنگلی روڈ کی تعمیراتی سرگرمیاں روکنے پر بلوچستان ہائی کورٹ کا سخت انتباہ

کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سمنگلی روڈ سمیت کوئٹہ شہر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے سمنگلی روڈ کی تعمیر اور گرڈ کی بہتری کے کام میں مبینہ رکاوٹوں اور نو تعمیر شدہ فٹ پاتھوں کی دوبارہ کھدائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کا کام بلا رکاوٹ جاری رکھا جائے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار سید نذیر احمد آغا ایڈووکیٹ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، کوئٹہ کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل راجیش ناتھ کوہلی، ثناء اللہ خان بگٹی ایڈووکیٹ، ایس پی لیگل کوئٹہ رحیم خان، وزیراعلیٰ پیکیج برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کے ڈائریکٹر رفیق بلوچ، کمیٹی کے کنوینر ایڈووکیٹ شای حق بلوچ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے وکیل اظہار الحق ترین، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شکیل احمد اور پاکستان ریلوے کے وکیل رضوان علی سومرو عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ کوئلہ پھاٹک کراسنگ کی توسیع کا کام مکمل ہوچکا ہے تاہم آخری کارروائی پاکستان ریلوے کے لاہور مرکزی دفتر میں زیر التوا ہے، جس کے ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد کام جلد شروع کردیا جائے گا۔ سیکشن 151 سی پی سی کے تحت دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کے لیے سول متفرق درخواست بھی دائر کی گئی جس کے ساتھ منسلک دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئیں۔ ایس ایس پی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالت کے احکامات سے متعلقہ ٹریفک حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے اور احکامات پر عملدرآمد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکیج کے ڈائریکٹر نے کالون روڈ کے سامنے عارضی میڈین اوپننگ اور ٹریفک کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق کالون روڈ پر روزانہ ٹریفک کا حجم 12,342 گاڑیاں جبکہ تعطیلات کے دوران فی گھنٹہ 1,270 گاڑیاں ہے، جبکہ انسکمب روڈ کے متعلقہ حصے میں روزانہ 6,416 اور تعطیلات کے دوران فی گھنٹہ 631 گاڑیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ٹریفک ماہرین کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کالون روڈ پر غلط سمت سے آمدورفت سڑک استعمال کرنے والوں کے غلط رویے اور غیر مناسب نقل و حرکت کا مسئلہ ہے، اس لیے کالون روڈ کے سامنے مستقل میڈین اوپننگ کی ضرورت نہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ نئی اوپننگ سے زرغون روڈ پر بے قابو یو ٹرن اور ٹریفک کی قطاروں کا خطرہ پیدا ہوگا، جبکہ انسکمب روڈ پہلے ہی متبادل اور مخصوص مقصد کے لیے تعمیر کیا گیا راستہ ہے۔ رپورٹ میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے سمت نما سائن بورڈز، ٹریفک پولیس کی مؤثر نگرانی و نفاذ، ڈرائیوروں میں آگاہی مہم اور 30 روز بعد ٹریفک کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کی سفارش کی گئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 24 اگست 2026 سے کوئٹہ کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام نے سمنگلی روڈ کی گرڈ بہتری کا کام روک رکھا تھا۔ مختلف اجلاسوں اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی موجودگی میں متعلقہ حکام کے ساتھ کام جاری رکھنے پر اتفاق کے باوجود تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ کسی تحریری اطلاع کے بغیر روک دی گئیں۔ کوئٹہ کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل راجیش ناتھ کوہلی نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹو آفیسر کی جانب سے کارروائی کی گئی، تاہم وہ خود کسی تحریری ہدایت یا حکم سے آگاہ نہیں ہیں۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ 13 فروری 2026 کو متعلقہ سرکاری و نجی اداروں کو خطوط کے ذریعے ہدایت کی گئی تھی کہ سمنگلی، سریاب اور زرغون روڈز پر نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں اور دیگر ترقیاتی کاموں کو غیر ضروری کھدائی سے محفوظ رکھا جائے اور کسی بھی یوٹیلیٹی کام کے آغاز سے قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر کو پیشگی اطلاع دی جائے، تاہم اس کے باوجود بعض مقامات پر نجی مزدوروں کی جانب سے نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھ دوبارہ کھودے جا رہے ہیں۔ عدالت نے کوئٹہ کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کریں اور اگر سمنگلی روڈ کے تعمیراتی کام کو روکنے کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر معطل کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور آئندہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں توہین عدالت کی کارروائی بھی شامل ہوگی۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو بھی ہدایت کی کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ پہلے سے تعمیر شدہ علاقوں میں کام کرنے والے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے کسی بھی کھدائی یا یوٹیلیٹی کام کے آغاز سے قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر سے این او سی حاصل کریں، بصورت دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی اور فوجداری کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے حکم نامے کی نقل متعلقہ حکام کو اطلاع اور عملدرآمد کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئینی درخواست کی مزید سماعت 24 ستمبر 2026 تک ملتوی کردی۔