مقامی ۲ ستمبر ۲۰۲۶

بدامنی قبضہ گرو قوتوں کی پیدا کردہ ہے، جہاں وسائل ہوں وہاں دہشت گردی پھیلائی جارہی ہے، نواب ایاز خان جوگیزئی

کوئٹہ(وېب نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا ہے کہ پشتونخوا وطن میں جاری بدامنی قبضہ گرو قوتوں کی پیدا کردہ ہے، جہاں قدرتی وسائل اور معدنیات موجود ہوں وہاں دہشت گردی پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ عوام کو خوفزدہ کرکے ان کی زمینوں اور قدرتی وسائل پر قبضہ کیا جاسکے اور انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جائے۔ انہوں نے یہ بات کوئٹہ میں 30 اور 31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کو منعقدہ تین روزہ پشتون قومی جرگہ (جنوبی پشتونخوا) کے اختتام پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کامیاب اور تاریخی جرگے کے انعقاد پر جنوبی پشتونخوا کے عوام اور پشتون قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جرگے نے اپنے وطن اور عوام کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے تاریخی فیصلے کیے ہیں، اب سب کو اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنی حالت بدلنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کو مختلف سازشوں کے ذریعے تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچایا گیا ہے، پہلے عوام کا معاشی قتل عام کیا گیا اور اب مختلف ناموں سے لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ انسان ہر طرح کے حالات میں زندگی گزار سکتا ہے لیکن بدامنی میں نہیں، آج دہشت گردی، لاقانونیت اور خوف کی صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ جرگے نے 1400 سے زائد ارکان کا انتخاب کرکے اپنے وطن کے مستقبل کو سنوارنے اور محفوظ بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے، جرگے کے قائم کردہ ادارے پشتونخوا وطن کے اندرونی اختلافات، قبائلی تنازعات اور رنجشوں کے حل کے لیے کردار ادا کریں گے، اس لیے تمام پشتونوں کو اپنی باہمی دشمنیاں ختم کرکے متحد اور منظم ہونا ہوگا۔ نواب ایاز خان نے خواتین کے حقوق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمنیوں میں عورت کو بدلے کے طور پر دینے کی غیر انسانی رسم ختم ہونی چاہیے اور خواتین کو اسلامی و پشتنی روایات کے مطابق جائیداد سمیت ان کے تمام حقوق دیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن اس کے باوجود پشتون نوجوان بیرون ملک مزدوری اور حتیٰ کہ کچرے کے ڈھیروں سے کچرا چننے پر مجبور ہیں جبکہ اپنے وطن کے کوئلے، کرومائیٹ اور دیگر معدنیات دوسروں کے لیے بطور مزدور نکالتے ہیں۔ انہوں نے غیر مقامی افراد کو مبینہ طور پر زمینوں کی الاٹمنٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشتونوں میں اتحاد کے فقدان کے باعث دوسروں کو اپنی زمینوں اور وسائل پر قبضے کا موقع مل رہا ہے۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے گرین پاکستان منصوبے کو پشتون وطن کی زمینوں پر قبضے کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور سولر کی سہولیات کے لالچ میں زمینوں کے انتقال اور سودی قرضوں کے ذریعے اپنی زمینیں خطرے میں نہ ڈالیں۔ انہوں نے زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے بے دریغ استعمال سے مستقبل میں پینے کے صاف پانی اور آبپاشی کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے اور زمینیں بنجر ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشتون نوجوان نسل کو منشیات کا عادی بناکر انہیں اپنے حقوق، سیاسی و جمہوری جدوجہد اور قومی تحریک سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ منشیات کے پھیلاؤ اور کاشت کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور پشتونخوا وطن اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اجتماعی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔