مقامی ۲ ستمبر ۲۰۲۶

مسلط جعلی دہشت گردی اور بدامنی پشتون دشمن سازش ہے، قومی اتحاد اور مشترکہ سیاسی جدوجہد ناگزیر، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

پشین(وېب نیوز)، 2 ستمبر 2026: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پشتون افغان ملت کو زندگی کے ہر شعبے میں درپیش اذیت ناک صورتحال سے نجات دلانے کے لیے قومی اتحاد و اتفاق اور سیاسی و جمہوری قوتوں کی مشترکہ نکات کے تحت مشترکہ جدوجہد اور تحریک اولین شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن پر مسلط جعلی دہشت گردی، بدامنی اور لاقانونیت ایک منصوبہ بند سازش کے تحت پشتون ملت کو اپنے سیاسی، معاشی، ثقافتی اور واک و اختیار کے حصول کی جدوجہد سے دستبردار کرانے کی پشتون دشمن سازش ہے، جسے ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز علی ترین، سید احسان آغا، محمود ریاض اور علماء ونگ کے آرگنائزر مولوی فضل کریم نے ضلع پشین کی ضلعی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں گزشتہ کارکردگی رپورٹ پیش کرکے اس کا جائزہ لیا گیا، جبکہ مسلط جعلی دہشت گردی کے خلاف ضلع پشین کی آل پارٹیز اور انجمن تاجران کے زیر اہتمام 4 ستمبر کو سرانان بازار اور 7 ستمبر کو پشین بازار میں احتجاجی ریلیوں اور جلسوں کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور مختلف علاقائی یونٹوں کے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا میں مسلط جعلی دہشت گردی کی حالیہ لہر حکومت اور متعلقہ اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے، کیونکہ حکومت اور اداروں کی پہلی ذمہ داری عوام کے جان، مال اور عزت کا تحفظ یقینی بنانا ہے، لیکن بدامنی اور لاقانونیت کی صورتحال روز بروز بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیارت شہداء دھرنا کمیٹی کے ساتھ معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر بھی عملدرآمد نہیں ہورہا، جبکہ زیارت، ہرنائی، شاہرگ اور ملحقہ علاقوں میں مسلح جتھے اب بھی موجود ہیں اور غریب عوام کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔ سرانان اور زیارت کراس میں دہشت گردی کے واقعات اور ملوث عناصر کی عدم گرفتاری حکومت اور متعلقہ اداروں کے دوغلے پن کو ظاہر کرتی ہے جو قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں کو پارٹی اجلاسوں کا بروقت انعقاد اور ان کے فیصلوں پر بروقت عملدرآمد ہر صورت یقینی بنانا ہوگا، تنظیمی امور میں کوتاہی سے گریز کرتے ہوئے پارٹی کی تنظیمی فعالیت کو ماہانہ بنیادوں پر مزید فعال بنانا ہوگا اور پارٹی اجلاسوں میں طے شدہ نکات پر عملدرآمد کا ہفتہ وار جائزہ لینا ضروری ہے۔