مقامی ۲ ستمبر ۲۰۲۶

زیارت کراس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، شاہراہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، اے این پی

کوئٹہ(وېب نیوز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں زیارت کراس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں مسلسل رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات، بالخصوص بین الصوبائی شاہراہوں پر بدامنی اور عدم تحفظ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کی مسلسل کوششوں کے پیچھے جو بھی مذموم مقاصد اور عناصر کارفرما ہیں، ان کی بیخ کنی حکومت اور ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کسی بھی شکل میں ناقابل قبول ہے، ریاست کی ذمہ داری صرف دہشت گردی کے واقعات کے بعد ردعمل دینا نہیں بلکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا، ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر، مستقل اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔ بین الصوبائی شاہراہیں بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی اہم گزرگاہیں ہیں، ان پر مسافروں، ٹرانسپورٹرز، کاروباری افراد اور مال بردار گاڑیوں کو عدم تحفظ کا شکار بنانا صوبے کی معاشی و سماجی سرگرمیوں کو براہ راست متاثر کرنے کے مترادف ہے۔ زیارت کراس سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں مسلسل پیش آنے والے دہشت گردانہ واقعات نے حکومت کے امن و امان سے متعلق دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے حالات معمول پر ہونے اور ’’سب کچھ ٹھیک‘‘ ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب عوام کو شاہراہوں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں بدامنی کی موجودہ لہر کو محض چند واقعات قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، مسلسل دہشت گردانہ کارروائیوں سے یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی ناکامی سے دوچار ہے۔ حکومت کو محض بیانات اور رسمی اقدامات کے بجائے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے تاکہ عوام کو واضح طور پر محسوس ہو کہ ریاست ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور متحرک ہے۔ اے این پی نے مطالبہ کیا کہ زیارت کراس حملے سمیت حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے واقعے کے محرکات، منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جائے، اہم بین الصوبائی شاہراہوں پر مؤثر سکیورٹی انتظامات، مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کے تحفظ، سرکاری و نجی املاک کی حفاظت اور عوامی آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوغلی پالیسی، وقتی اقدامات اور محض اعلانات کسی صورت قابل قبول نہیں، ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صوبے کے شہریوں کو بلاامتیاز تحفظ فراہم کرے۔