پاکستان ۳۱ اگست ۲۰۲۶

ماحول اور تیاری نہ ہو تو صوبوں کی تقسیم سے تباہی ہوتی ہے، مولانا فضل الرحمان

کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں اور صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے، لیکن پاکستان میں اس حوالے سے نہ مناسب ماحول ہے اور نہ ہی تیاری، ایسے حالات میں صوبوں کی تقسیم تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے وسائل بھی ہضم نہیں ہو رہے اور غیر سیاسی لوگوں سے ایسی باتیں کہلوائی جا رہی ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے 2018ء اور 2024ء کے انتخابات کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں کسی ادارے کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں بدامنی نے عوام کی زندگی مفلوج کردی ہے، اس کا حل صرف طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ تمام فریقوں کی مشاورت میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدان اقتدار کے بجائے اصولوں پر ڈٹ جائیں تو مداخلت کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی سیاسی رہنما کو جیل میں رکھنا درست نہیں، شدید مخالف کو بھی سیاسی آزادی حاصل ہونی چاہیے اور کردار کشی کے بجائے اختلافِ رائے کو سیاسی انداز میں برداشت کیا جائے۔