مقامی ۳۰ اگست ۲۰۲۶

مستونگ کے باغات ختم کرنے کے بیان پر سرفراز بگٹی تنقید کی زد میں

کوئٹہ (ویب نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے منسوب مستونگ کے تمام باغات ختم کرنے کے بیان پر انسانی حقوق کے کارکنوں، ماحولیاتی ماہرین اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کام کرنے والے حلقوں نے شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مستونگ کے باغات صرف زرعی زمینیں نہیں بلکہ مقامی آبادی کے روزگار، خوراک، ماحول اور قدرتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ بلوچستان پہلے ہی پانی کی قلت، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں باغات کے خاتمے کی بات انتہائی تشویشناک ہے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمداللہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر باغات سے فائرنگ ہوئی تو مالک کو سہولت کار سمجھ کر کارروائی ہوگی، واہ صاحب! چور گھر میں گھسیں اور ڈاکو بھاگ جائیں تو گھر کا مالک ہی ڈاکو بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون نہیں بلکہ منطق کا جنازہ ہے، مسئلہ کہیں اور ہو اور علاج کہیں اور کیا جائے۔ حافظ حمداللہ نے باغات کے مالکان کو اجتماعی طور پر ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے فائرنگ اور جرائم میں ملوث اصل عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔