کوئٹہ (ویب نیوز) جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کے امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا محمود الحسن قاسمی، مرکزی سینئر نائب امیر مولانا عبدالوھاب ڈھیر، مرکزی نائب امیر مولانا عبدالروف، سرپرست اعلیٰ مولانا ڈاکٹر شمس الہدیٰ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی اور مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومت قیامِ امن میں اپنی نااہلی کا ملبہ باغات کے مالکان پر ڈال رہی ہے اور اب اپنی ناکامی چھپانے کے لیے باغات مالکان کو سہولت کار قرار دے رہی ہے، حالانکہ قیامِ امن ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغات کے مالکان کو دہشت گردوں کا سہولت کار تصور کرنا یا باغات ختم کرنا سمجھ سے بالاتر منطق ہے، جب باغات مالکان خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے تو اگر فورسز پر حملہ یا کوئی واردات کسی کے باغ سے ہو جائے تو مالک کو قصوروار کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ کسی کو سہولت کار قرار دینے سے بلوچستان کا امن کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ رہنماؤں نے کہا کہ سہولت کار قرار دینے کی آڑ میں عوام کو ان کی جائیدادوں سے جبری طور پر بے دخل کرنے کا منصوبہ ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ صدیوں سے اپنی زمینوں پر آباد ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت مقامی آبادی کو سہولت کار قرار دے کر ان کی آبائی جائیدادیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آئین کے تحت ہر شہری کی جان، مال اور عزت کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، جبکہ دہشت گردی کا خاتمہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کا کام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بے گناہ شہریوں کو ہراساں نہ کیا جائے، کیونکہ سیکیورٹی کی ناکامی کا ملبہ عام عوام پر ڈالنا ریاست کی اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات سے عوام اور اداروں کے درمیان مزید دوریاں اور عدم اعتماد پیدا ہوگا۔ کوئی بھی مقامی زمیندار یا باغات کا مالک اپنی مرضی سے ریاست مخالف گروہوں کو اپنی حدود میں پناہ گاہ فراہم نہیں کرتا، اگر کوئی گروہ زبردستی داخل ہو جائے تو باغ کے مالک کو قصوروار کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کے باعث بلوچستان نو گو ایریا بن چکا ہے، محرومیوں نے صوبے کو بدامنی، احساسِ کمتری اور عدم استحکام کی اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں ترقی کے دعوے اور طفل تسلیاں اپنا اثر کھو چکی ہیں۔ پورے صوبے میں کہیں بھی حکومت کی رٹ دکھائی نہیں دیتی اور عوام کی عزت، مال اور جان سب کچھ داؤ پر لگ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات پر غیر سنجیدہ فیصلوں نے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، امن و امان کے نام پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بدامنی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، حکومت صرف ورکشاپس اور بلند بانگ دعوؤں کے ذریعے اپنی ناکام کارکردگی کو نہیں چھپا سکتی۔
