پاکستان ۲۹ اگست ۲۰۲۶

کوئلے کی کانیں موت کا کنواں بن گئیں، رواں سال 118 کان کن جاں بحق

کوئٹہ (ویب نیوزڈ) پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اور آل پاکستان لیبر فیڈریشن نے دُکی کے معراج کول کے علاقے میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس پھیلنے کے باعث تین کان کنوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات، جاں بحق کان کنوں کے خاندانوں کو مکمل معاوضے کی ادائیگی اور کانوں میں صحت و سلامتی کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری سلطان محمد خان اور آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالستار نے کہا کہ پاکستان میں کوئلے کی کانیں مزدوروں کے لیے موت کا کنواں بن چکی ہیں اور حفاظتی سہولیات کے فقدان کے باعث ہر سال سینکڑوں کان کن جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف رواں سال جولائی اور اگست کے دوران بلوچستان میں 50 سے زائد کان کن جاں بحق ہوئے، جبکہ ملک بھر میں مختلف حادثات کے دوران 118 سے زائد مائن ورکرز ہلاک ہوچکے ہیں۔ مزدور تنظیموں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ کان کنوں کی مزید ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں، متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں، زہریلی گیسوں کی نگرانی، مناسب ہوا کی فراہمی، کارکنوں کی تربیت، باقاعدہ معائنوں، ہنگامی امدادی کارروائیوں اور جدید آلات کے ذریعے کانوں کی جانچ یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے رواں سال کان کنی کے شعبے میں پیش آنے والے تمام حادثات کی شفاف، غیر جانب دار اور آزادانہ تحقیقات، تحقیقاتی رپورٹس کی اشاعت اور غفلت یا حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کان کنی کے شعبے میں صحت و سلامتی سے متعلق عالمی ادارۂ محنت (ILO) کے کنونشن 176-C کی جلد از جلد توثیق اور عملی نفاذ کرنا چاہیے، جس سے کان کنوں کی زندگی اور صحت کے تحفظ کے لیے پاکستان کا قانونی اور ادارہ جاتی نظام مزید مضبوط ہوگا۔