کوئٹہ (ویب نیوزڈ) بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) کے زیر اہتمام صحافیوں کے شہداء کے دن کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں سیمینار منعقد ہوا، جس میں صحافیوں، وکلاء، انسانی حقوق کے نمائندوں، سماجی کارکنوں، تجزیہ کاروں اور شہید صحافیوں کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ سیمینار سے بی یو جے کے صدر منظور احمد رند، پی ایف یو جے کے نائب صدر نور اللہ بگٹی، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید، بی یو جے کے جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین، سماجی کارکن فوزیہ شاہین، سینئر صحافی و تجزیہ کار امتیاز گل، انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے چیئرمین محمد کاشف پانیزئی، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری میر فہد مینگل اور شہید صحافی واحد رئیسانی کے بھائی و صحافی شعیب رئیسانی نے خطاب کیا۔ مقررین نے شہید صحافیوں کو ان کی قربانیوں پر بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن، جمہوریت، آزادی اظہار اور عوامی حقوق کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے شہید صحافیوں کے اہل خانہ کی جانب سے دکھائے گئے صبر و حوصلے کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔ مقررین نے کہا کہ صحافیوں سمیت معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جانوں کی قربانیاں دی ہیں، تاہم ان قربانیوں نے معاشرے میں امن، انصاف اور آزادی اظہار کی جدوجہد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 40 سے زائد صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران جانیں گنوا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود صوبے میں صحافت آج بھی مشکلات، پابندیوں اور رکاوٹوں کا شکار ہے۔ مقررین نے الزام عائد کیا کہ حکومت الیکٹرانک میڈیا اور صحافیوں کو کنٹرول کرنے اور آزادی اظہار محدود کرنے کے لیے پیکا قانون جیسے قوانین استعمال کر رہی ہے، جبکہ بالخصوص بلوچستان میں صحافت ایک مشکل ترین پیشوں میں شامل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو درپیش خطرات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور عزم ظاہر کیا کہ شہید صحافیوں کے اہل خانہ اور بچوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ سیمینار کے اختتام پر شہید صحافیوں کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا کی گئی۔
