ژوب (ویب نیوزڈ) ایس ایس پی ژوب سید عبدالصبور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اغوا کیے گئے بریال خان کو بحفاظت بازیاب کرالیا گیا ہے جبکہ اس کے اغوا کے مقدمے میں سہولت کار سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار افراد عام اور پیشہ ور جرائم پیشہ عناصر ہیں اور مختلف مقدمات میں پولیس کو مطلوب بھی تھے۔ ان کے مطابق مغوی کے بھائی کی اطلاع پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ڈی ایس پی گلاب الدین کاکڑ، قیصر زمان، سب انسپکٹر امین شاہ، سہراب خان اور تفتیشی افسر اختر گل پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس نے مخبر کی اطلاع اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی مدد سے واقعے کے علاقے میں نظر آنے والی مشکوک گاڑی کا سراغ لگایا۔ گاڑی کے مالک عبدالمنان کا پتا چلنے پر معلوم ہوا کہ اس نے یہ گاڑی باجڑ نامی شخص کی ضمانت پر اعجاز شاہ کو کرائے پر دی تھی، جس کے بعد مقامی سہولت کار اور اعجاز شاہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران اعجاز شاہ نے اعتراف کیا کہ اس نے صابر شاہ، انعام اور سلام کے ساتھ مل کر بریال خان کو اسکول جاتے ہوئے اغوا کیا تھا۔ اس کی نشاندہی پر پولیس نے مزید تین افراد کو گرفتار کرلیا اور بریال خان کو بھی بحفاظت بازیاب کرالیا۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ ملزمان کے ٹھکانے کا سراغ کراچی تک لگایا گیا، تاہم خصوصی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کوئٹہ میں کامیاب کارروائی کی، جہاں ملزمان نے ایک کمرہ کرائے پر لے رکھا تھا اور وہیں سے انہیں گرفتار کرکے بریال خان کو بازیاب کرایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار ملزمان پیشہ ور جرائم پیشہ ہیں اور دیگر جرائم کے مقدمات میں ملوث ہونے سے متعلق بھی معلومات فراہم کی ہیں۔ ایس ایس پی نے واقعے کے دوران سوشل میڈیا پر غیر ضروری اور بڑے پیمانے پر معلومات شیئر کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پولیس کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں اور مغوی کم عمر بچے کی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی، کیونکہ پولیس کے مطابق ملزمان نے بریال خان کو مبینہ طور پر مذموم مقاصد کے لیے اغوا کیا تھا۔
