کوئٹہ، (ویب نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مستونگ میں اگر انگور کے باغات یا کسی نجی جائیداد سے صوبائی وزیر داخلہ یا سیکیورٹی فورسز پر حملہ ہوا تو جائیداد کے مالک کو دہشت گردوں کا سہولت کار تصور کیا جائے گا، باغات کے مالکان کو بار بار خبردار کیا جا رہا ہے، جبکہ دہشت گردی کے لیے نجی جائیدادوں کے استعمال کا سلسلہ جاری رہا تو حکومت سخت اقدامات کرے گی۔ سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں بلوچستان پولیس کے ڈیجیٹل انیشیٹوز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس کی آٹھ پرانی ایپس اپ گریڈ اور آٹھ نئی ایپس متعارف کرائی گئی ہیں، خواتین، شہداء کے خاندانوں، شکایات، خدمت مراکز اور دیگر شعبوں کے لیے ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پولیس ڈیجیٹل منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کے لیے 50 لاکھ روپے انعام اور پولیس کی مزید ڈیجیٹلائزیشن کے لیے رواں سال 5 کروڑ روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی قائم اور متعلقہ قانون سازی مکمل ہوچکی ہے، جبکہ حکومت پولیس کو بااختیار بنا کر آئندہ تین سے چار سال میں بلوچستان پولیس کو مضبوط پولیس سروس بنانا چاہتی ہے۔ بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبہ اس وقت پاکستان کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور حکومت صورتحال سے نمٹنے کے لیے واضح منصوبہ رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ایک ہزار سے زائد سخت گیر دہشت گردوں کو غیر مؤثر کیا جاچکا ہے۔ تحصیلداروں کی بھرتی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ایک اندرونی غلطی سامنے آنے کے بعد پبلک سروس کمیشن کے ساتھ کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو 7 سے 10 روز میں رپورٹ پیش کرے گی اور رپورٹ میڈیا و عوام کے سامنے لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی صرف میرٹ ہے اور سیاسی نقصان کی صورت میں بھی میرٹ پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
