کوئٹہ (ویب نیوز) ایڈووکیٹ ساجد ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے کوٹے پر جعلی ڈومیسائل اور دیگر مشکوک دستاویزات کے ذریعے ہزاروں افراد سرکاری ملازمتیں حاصل کر رہے ہیں، جبکہ بلوچستان کے پشتون اور بلوچ نوجوانوں کے لیے دوسرے صوبوں میں درست اور قانونی دستاویزات کے باوجود ملازمتوں کے مواقع محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر غیر مقامی افراد جعلی ڈومیسائل کے ذریعے بلوچستان کے کوٹے پر ملازمتیں حاصل کر رہے ہیں تو یہ بلوچستان کے نوجوانوں کے حق پر براہِ راست ڈاکا ہے۔ ساجد ترین نے مطالبہ کیا کہ ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے اور جعلی دستاویزات کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ بلوچستان کے نوجوانوں کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ، میرٹ، شفافیت اور مقامی افراد کے حقِ روزگار کو یقینی بنایا جائے۔
