پاکستان ۲۷ اگست ۲۰۲۶

صوبائی حکومت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر بلوچستان میں پائیدار امن چاہتی ہے ‘وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ( ویب نیوز )بلوچستان کی مجموعی امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال سے متعلق 28 واں دو روزہ دفاعی و جائزہ اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر کوئٹہ نے کی۔ اجلاس میں صوبائی و وفاقی اداروں، مختلف محکموں اور سیکیورٹی فورسز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صوبے میں امن و استحکام، جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، عوامی فلاح و بہبود اور بلوچستان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی اور وفاقی اداروں کی مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے اور صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے بلوچستان کے درخشندہ مستقبل، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کی فلاح و بہبود کے عزم کا اعادہ کیا اجلاس کے دوران صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت اہم علاقوں میں مرحلہ وار سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا، جس سے سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔*28 ویں دفاعی و جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہو رہا ہے، جس کے صوبے میں امن و استحکام کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر تین ہفتوں بعد ہونے والے اس اجلاس کا بنیادی مقصد سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینا اور صوبے میں امن و استحکام کو مزید یقینی بنانا ہے۔ صوبائی حکومت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ اجلاس میں رواں ماہ *فتنہ الہندستان سے وابستہ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ، ترقیاتی عمل کے تسلسل اور بلوچستان کی مجموعی خوشحالی کے لیے تمام صوبائی و وفاقی ادارے اور سیکیورٹی فورسز باہمی رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔