مقامی ۲۶ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان کے تاجر ٹیکس دینے سے گریزاں نہیں، ٹیکس نظام منصفانہ اور عملی بنایا جائے، کاشف حیدری

کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان مرکزی تنظیم تاجران کے ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ تاجر برادری ٹیکس ادا کرنے سے گریزاں نہیں، تاہم ضروری ہے کہ ٹیکس نظام تاجروں کی حقیقی آمدنی، کاروباری حالات اور زمینی حقائق کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہر تاجر کو اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس ریٹرن جمع کرانا چاہیے اور قانون کے تحت جتنی ٹیکس ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہ ادا کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو تاجر موجودہ ٹیکس نظام کے تحت باقاعدگی سے ریٹرن جمع کرا رہے ہیں، وہ اسی طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن جمع کرا سکتے ہیں، جبکہ نئے ٹیکس اسکیم کے دائرے میں آنے والے تاجروں کو اسکیم کی شرائط اور اپنی کاروباری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون سا طریقہ ان کے لیے موزوں ہے۔ کاشف حیدری نے کہا کہ نئی اسکیم میں ٹرن اوور کی بنیاد پر ایک فیصد ٹیکس اور کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس کی شرط عائد کی گئی ہے، اس لیے تاجروں کو اپنی کاروباری صورتحال کا درست جائزہ لے کر ٹیکس سے متعلق فیصلہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ تاجر اپنی حقیقی آمدنی ظاہر کریں، ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں اور اپنی قانونی ذمہ داری کے مطابق ٹیکس ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے مسائل صرف انکم ٹیکس تک محدود نہیں بلکہ سیلز ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کے حوالے سے بھی کاروباری طبقہ مشکلات کا شکار ہے۔ مرکزی تنظیم تاجران کی جانب سے ان مسائل پر آواز اٹھانے اور تاجروں کے جائز مطالبات متعلقہ حکام تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ کاشف حیدری نے زور دیا کہ ٹیکس نظام پیچیدہ طریقہ کار اور غیر ضروری بوجھ کے بجائے سہولت اور شفافیت پر مبنی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تاجروں سے مشاورت کے بعد بنائی جانے والی پالیسیاں نہ صرف کاروباری طبقے کے لیے فائدہ مند ہوں گی بلکہ ٹیکس نظام کی بہتری اور شفافیت میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان مرکزی تنظیم تاجران تاجروں کے قانونی حقوق، کاروباری مفادات اور عملی ٹیکس نظام کے لیے اپنا مؤقف واضح طور پر پیش کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اصول واضح ہے کہ قانونی ٹیکس ادا کیا جائے، تاہم ٹیکس نظام بھی منصفانہ، قانونی اور کاروباری حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔