پاکستان ۲۱ اگست ۲۰۲۶

چیف آف ڈیفنس فورسز کو وسیع اختیارات، پارلیمنٹ نے دفاعی قوانین منظور کرلیے۔

اسلام آباد،(ویب ڈیسک) قومی اسمبلی اور سینیٹ نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود ’ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026‘ اور ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010‘ میں ترامیم کے بل کثرتِ رائے سے منظور کرلیے، دونوں بل وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوانوں میں پیش کیے، جن کی منظوری کے بعد اب صدرِ مملکت کے دستخط باقی ہیں؛ منظور شدہ دفاعی افواج ترمیمی قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کو آئینی و قانونی بنیاد فراہم کرتے ہوئے انہیں مسلح افواج کی کمان، کنٹرول، تنظیم، تربیت، انتظامی امور، مشترکہ آپریشنل صلاحیت، جنگی تیاری اور تینوں سروسز کے درمیان رابطہ کاری کے وسیع اختیارات دیے گئے ہیں، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی سربراہی میں ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کرنے کی شق بھی شامل ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز قومی سلامتی اور اہم فوجی معاملات پر وزیراعظم کو مشاورت فراہم کریں گے اور قانون کے تحت حاصل اختیارات کے علاوہ وزیراعظم کی منظوری سے اضافی اختیارات بھی حاصل کرسکیں گے؛ ترمیمی قانون کے تحت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے چیئرمین کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے جبکہ اس میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، اتھارٹی کے ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز اور کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے؛ واضح رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا منصب تشکیل دیا گیا تھا، جبکہ اپوزیشن نے بلوں کی منظوری کے طریقۂ کار پر اعتراض کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں احتجاج اور واک آؤٹ کیا۔