اسلام آباد (ویب نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ تحفظات دور نہ ہونے کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون نہیں کیا جاسکتا، تاہم قومی نوعیت کے معاملات پر تعاون ممکن ہے۔ نئے صوبوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جہاں اتفاق رائے موجود ہو وہاں فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جائے جبکہ اختلاف کی صورت میں سیاسی جماعتیں مذاکرات کریں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کسی آئینی ترمیم کا کوئی نکتہ ابھی ان کے سامنے نہیں آیا، جب کوئی تجویز سامنے آئے گی تو اس پر بات کی جائے گی، زور زبردستی نہ پہلے قبول کی ہے اور نہ آئندہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے متعلق پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور جہاں عوامی یا سیاسی اتفاق رائے ہوگا، پیپلز پارٹی اس کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کو انتخابات میں ہرایا گیا اور انتخابی عمل پر ان کے تحفظات دور نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو اتنا متنازع الیکشن چاہیے تھا تو انہیں مبارک ہو، تاہم پیپلز پارٹی اپنے تحفظات کے حل کے بغیر حکومت سے تعاون کے حق میں نہیں۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا علاج ہو اور وہ صحت یاب ہوں۔
