تازہ ترین ۱۸ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی کوششیں تیز

کوئٹہ (ویب نیوز) وفاق میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کے اثرات بلوچستان تک بھی پہنچ گئے ہیں، جہاں صوبائی حکومت کی تبدیلی کے لیے دونوں جماعتوں نے الگ الگ لابنگ شروع کر دی ہے۔ دونوں جماعتیں حکومت بنانے یا موجودہ حکومت کو بچانے کے لیے جمعیت علمائے اسلام کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہیں، تاہم جمعیت علمائے اسلام نے پہلے ہی اپنا مؤقف واضح کر رکھا ہے اور پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کوئٹہ کے دورے کے دوران ایک سوال کے جواب میں واضح طور پر کہا تھا کہ ان کی جماعت بلوچستان حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے وفاقی سطح پر تین مرتبہ اور صوبائی سطح پر دو مرتبہ جمعیت علمائے اسلام کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی اور اہم وزارتوں کے علاوہ وزیراعلیٰ کا منصب دینے کی پیشکش بھی کی۔ دوسری جانب موجودہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بھی اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے ایک مرتبہ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جبکہ کئی مرتبہ جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع سے ملاقات کرکے باضابطہ طور پر حکومت میں شمولیت کی دعوت دی۔ جمعیت علمائے اسلام کی اندرونی صورتحال اس وقت بھی سامنے آئی جب صوبائی امیر نے حکومت میں شمولیت کے معاملے پر صوبائی مجلس عاملہ اور پارلیمانی گروپ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے تین افراد کے نام وزیراعلیٰ کے ممکنہ امیدواروں کے طور پر سامنے آئے جبکہ بعض ارکان نے اہم وزارتوں کا مطالبہ بھی کیا۔ صوبائی امیر نے اجلاس کی مکمل رپورٹ مرکزی قیادت کو پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں جماعت حکومت کا حصہ بنتی ہے تو اس کے پارلیمانی ارکان تین حصوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں، اس لیے جماعت کے مفاد میں یہی ہوگا کہ وہ اپوزیشن بینچوں پر برقرار رہے۔