اسلام آباد (ویب نیوز)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمود خان اچکزی نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت سنگین مسائل سے دوچار ہے، ملک بھر میں دہشت گردی، قتل و غارت اور معدنیات و مائنز کے تنازعات جاری ہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ کم از کم دو دن ان اہم مسائل کے لیے مختص کیے جائیں تاکہ آفریدی، بلوچ اور دیگر علاقوں کے نمائندے اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔ اچکزی نے کہا کہ اگر ان اہم مسائل پر بات نہ کی گئی تو عوام ہمیں معاف نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ 50 سے 60 افراد فائرنگ اور دھماکوں میں جاں بحق ہو رہے ہیں، جن میں پولیس اہلکار، عام شہری اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ وزیرستان، باجوڑ اور خیبر کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے یا اعداد و شمار گھڑنے کے بجائے سنجیدہ اور تعمیری بحث ہونی چاہیے تاکہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ راستہ نکالا جا سکے۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزی نے پاکستان تحریک انصاف کے آئندہ احتجاج کے حوالے سے کہا کہ احتجاج سیاسی کارکنوں کا حق ہے اور اگر انصاف، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور خودمختار پارلیمنٹ موجود نہ ہو تو سیاسی لوگ احتجاج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم، جبر اور غیر جمہوری حکومتوں کے خلاف ہونے والی ہر جدوجہد میں ان کی حمایت شامل ہوگی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے رابطوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب سیاسی لوگ آپس میں ملتے ہیں تو سیاسی معاملات پر بات ہوتی ہے، جن میں مذاکرات، موجودہ کشیدگی کا خاتمہ، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور جمہوری پاکستان کی تشکیل شامل ہیں۔ عمران خان کے بارے میں اچکزی نے کہا کہ جیل میں موجود ہر انسان کے بنیادی حقوق ہیں اور ان حقوق پر پابندیاں عوام میں غصے کا باعث بنتی ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان پاکستان کے مقبول ترین سیاسی رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور ان کے کارکنوں پر پابندیاں افسوسناک ہیں۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں محمود خان اچکزی سے وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ اور طارق فضل چوہدری نے بھی ملاقات کی، جس میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کی تقرری، موجودہ سیاسی صورتحال اور باہمی سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ آئندہ بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
