کوئٹہ (ویب نیوز) آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین حاجی حبیب اللہ خان بادیزی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور صوبے کی قومی شاہراہوں کی خراب حالت، امن و امان کے مسائل، غیر ضروری رکاوٹوں اور دیگر مشکلات نے ٹرانسپورٹرز کو شدید معاشی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹرانسپورٹرز کے لیے فوری طور پر خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر سفر ٹرانسپورٹرز اور مسافروں دونوں کے لیے انتہائی مشکل ہو چکا ہے، طویل سفر کے دوران سڑکوں کی خراب حالت، مختلف مقامات پر رکاوٹوں اور دیگر مسائل سے نہ صرف گاڑیوں کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ٹرانسپورٹرز کے اخراجات بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ حبیب اللہ بادیزی نے کہا کہ ڈیزل، گاڑیوں کے پرزہ جات، ٹائروں، مرمت اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافے نے ٹرانسپورٹ کے کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ مسافروں کی قوت خرید کم ہونے کے باعث ٹرانسپورٹرز کرایوں میں بھی غیر معمولی اضافہ نہیں کر سکتے، جس سے آمدن اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز نے ملکی معیشت اور بلوچستان کے عوام کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی، لیکن اب یہ شعبہ شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق متعدد ٹرانسپورٹرز گاڑیوں کی اقساط کے باعث کمپنیوں کے کروڑوں روپے کے مقروض ہو چکے ہیں اور اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو بہت سے ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیاں سڑکوں سے ہٹانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہزاروں ڈرائیور، کنڈکٹر، مکینک، کلینر اور دیگر مزدور بھی اس بحران سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں اور ٹرانسپورٹ کا بحران دراصل لاکھوں افراد کے روزگار کا بحران ہے۔ حبیب اللہ بادیزی نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز اب دو وقت کی روٹی کے لیے بھی مشکلات کا شکار ہیں اور گاڑیوں کے اخراجات، اقساط اور دیگر واجبات ادا کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صرف یقین دہانیوں پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ عملی ریلیف فراہم کیا جائے، بلوچستان کی قومی شاہراہوں کی فوری مرمت و بحالی کی جائے، ٹرانسپورٹرز کے لیے خصوصی مالی ریلیف دیا جائے، گاڑیوں کی اقساط کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے، ٹیکسز اور دیگر واجبات میں مناسب رعایت دی جائے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے دیگر مسائل کے حل کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی ٹرانسپورٹرز کے قانونی حقوق اور مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اگر حکومت نے بروقت عملی اقدامات نہ کیے تو ٹرانسپورٹرز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے پر مجبور ہوں گے۔
