تازہ ترین ۱۴ اگست ۲۰۲۶

انسانی زندگی خالقِ کائنات کی عظیم نعمت اور امانت ہے؛ حافظ حمداللہ

کوئٹہ(ویب نیوز) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ انسانی زندگی خالقِ کائنات کی عظیم نعمت اور امانت ہے اور مسلمان کے عقیدے اور ایمان کا حصہ ہے کہ زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان خطا کا پتلا ہے اور بعض اوقات غفلت، حادثے یا غلط فہمی کے باعث ایسا واقعہ پیش آ جاتا ہے جس میں کسی انسان کی جان چلی جاتی ہے؛ اگرچہ خطائی قتل میں نقصان پہنچانے کی دانستہ نیت نہیں ہوتی، تاہم ایک قیمتی انسانی جان کا ضیاع انتہائی سنگین واقعہ ہے۔ ان کے مطابق اسلامی شریعت مقتول کے ورثا کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشرتی امن، اخلاقی اقدار اور آخرت کے حساب کو بھی خصوصی اہمیت دیتی ہے۔ حافظ حمداللہ نے کہا کہ اسلام صرف عدل و انصاف کا درس نہیں دیتا بلکہ رحم، کرم، عفو اور درگزر کو بھی بلند اخلاقی مقام عطا کرتا ہے؛ معافی کمزوری نہیں بلکہ دل کی وسعت اور اخلاقی بہادری کی علامت ہے۔ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر حضرت محمد ﷺ کی عفو و درگزر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے سخت مخالفین اور دشمنوں کو بھی معاف کیا اور عفو و درگزر کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی عفو و درگزر کا عملی نمونہ ہے اور آپ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ حافظ حمداللہ نے مزید کہا کہ اسلام امن کا دین ہے اور انسانوں بلکہ حیوانات کے حقوق کے ساتھ ان کی جان و مال کے تحفظ کا بھی درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی تنازعات نے عوام کو امن، خوشحالی اور ترقی سے محروم کر رکھا ہے، جبکہ امن اور مفاہمت ہر معاشرے کی وہ بنیادی ضروریات ہیں جن کے بغیر کسی قوم کی ترقی، خوشحالی اور بقا کا تصور ممکن نہیں۔ انہوں نے عفو و درگزر کو اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاف کرنا اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رسول اللہ ﷺ قیامت تک ہدایت کا مرکز ہیں اور آپ ﷺ کی نورانی تعلیمات میں دنیا کی اقوام کی کامیابی اور ترقی کے راز پوشیدہ ہیں۔ ان کے مطابق اسلام کے اصول انسانیت کی فلاح، بقا اور حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہیں، جبکہ اسلام نے اخوت اور محبت کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیا ہے اور مسلمانوں کی طاقت و کامیابی اسی اتحاد و یکجہتی سے وابستہ ہے، اس لیے اسلامی اخوت کا تحفظ ہر مسلمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔