اسلام آباد (ویب نیوز) بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد اضافی بوجھ ڈالنے کی درخواست پر نیپرا میں سماعت مکمل ہوگئی ہے۔ تقسیم کار کمپنیوں نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں ایک روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی، جبکہ مجموعی طور پر 49 ارب 74 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے مطابق بجلی کمپنیوں نے آپریشن اینڈ مینٹیننس اخراجات کی مد میں بھی 4 ارب 95 کروڑ روپے مانگے ہیں۔ صنعتی صارفین نے مجوزہ اضافے کو مؤخر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں بجلی مہنگی ہونے سے صنعتوں اور صارفین پر مزید مالی بوجھ پڑے گا۔ پاور ڈویژن حکام کے مطابق ملک میں سولرائزیشن میں اضافے کے باعث بجلی کی فروخت متاثر ہو رہی ہے، تاہم نیپرا کے رکن انور مقصود نے کہا کہ سولر بجلی نہ ہوتی تو اس وقت شدید ترین لوڈشیڈنگ کا سامنا ہوتا۔ نیپرا نے بجلی ایک روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر عوامی سماعت مکمل کرلی ہے اور اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
