کراچی(ویب نیوز) وفاقی حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی ناکام ہوگیا، جس کے باعث گڈز ٹرانسپورٹرز کا پہیہ جام احتجاج پانچویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ ملک شہزاد اعوان نے کہا ہے کہ ان کا احتجاج پرامن ہے اور جائز و قانونی مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے وفاقی وزیر مواصلات کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں اور اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ٹرانسپورٹرز گزشتہ دسمبر کی طرح احتجاج ختم کردیں گے تو ایسا نہیں ہوگا، جب تک تمام مطالبات کی منظوری کی تحریری ضمانت نہیں دی جاتی، احتجاج جاری رہے گا۔ ملک شہزاد اعوان نے الزام عائد کیا کہ وفاقی اور سندھ حکومتیں ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں، حالانکہ احتجاج کے باعث ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات کی منظوری میں اگر چھ ماہ بھی لگ جائیں تو احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے سربراہ محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات قانونی اور جائز ہیں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے بنیادی مسائل سے متعلق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومتی وعدے عملی شکل اختیار نہیں کرسکے، اس لیے صرف زبانی یقین دہانیوں پر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا، تاہم حکومت کے ساتھ سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث ملک بھر میں مال برداری اور اشیاء کی ترسیل کا نظام شدید متاثر ہوا ہے، جبکہ صوابی موٹروے ٹول پلازہ پر ٹرانسپورٹرز نے احتجاجی کیمپ لگا کر سیکڑوں گاڑیاں کھڑی کردی ہیں اور ٹول ٹیکس سمیت ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پشاور اور خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی ٹیکسوں، گاڑیوں کی مبینہ غیرقانونی ضبطی اور بھاری ٹول ٹیکسوں کے خلاف احتجاج جاری ہے، جبکہ اہم شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت رکنے سے فیکٹریوں اور بڑے تجارتی مراکز کو خام مال اور ضروری اشیاء کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔
