پاکستان ۱۲ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان میں 119 ہزار سے زائد مستحق خاندان ہاؤسنگ امداد سے محروم، عالمی بینک کا انتباہ

کوئٹہ(ویب نیوز)عالمی بینک نے وفاقی اور بلوچستان حکومت کو ایک تفصیلی خط میں خبردار کیا ہے کہ بلوچستان میں ہاؤسنگ امداد محدود کیے جانے کے باعث 119,049 تصدیق شدہ اور مستحق خاندان مالی معاونت سے محروم رہ گئے ہیں، جس سے ان کی معاشی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق ان مستحق خاندانوں میں 84 فیصد انتہائی غریب اور کمزور طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں 28 فیصد کی ماہانہ آمدن 30 ڈالر سے کم جبکہ 26 فیصد کی آمدن 31 سے 70 ڈالر کے درمیان ہے۔ ان خاندانوں میں 39 فیصد کرایہ دار، 37 فیصد یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور 8 فیصد چھوٹے کسان ہیں۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ محدود بچت، رسمی قرضوں تک کم رسائی اور پیداواری اثاثوں کی کمی کے باعث یہ خاندان معاشی و قدرتی آفات کے دوران مشکلات کا مقابلہ کرنے کی بہت کم صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی بینک کی ملکی قیادت نے وفاقی وزارتِ اقتصادی امور، وزارتِ منصوبہ بندی اور بلوچستان کے چیف سیکریٹری کو خط میں بتایا کہ 22 جون 2026 تک ہاؤسنگ امداد صرف 62,966 مستحقین تک محدود کرنے اور سبسڈی امداد 97 ہزار خاندانوں تک برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد بڑی تعداد میں تصدیق شدہ مستحق خاندانوں کے لیے مالی معاونت کا کوئی متبادل نہیں بچا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عالمی بینک کے ساتھ مشترکہ ابلاغی حکمتِ عملی طے کرنے سے قبل اس فیصلے کا اعلان بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ جن خاندانوں کی امداد کے لیے تصدیق مکمل ہوچکی ہے اور متعلقہ دستاویزات پر دستخط کیے جاچکے ہیں، وہ اب بھی مالی معاونت کی توقع رکھتے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق مقررہ تاریخ تک منصوبے کے انتظامی نظام میں 66,120 شکایات درج ہوچکی تھیں، اس لیے سفارش کی گئی ہے کہ ہر شکایت کنندہ سے انفرادی طور پر رابطہ کیا جائے، فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے اور اطلاع موصول ہونے کا ثبوت بھی محفوظ رکھا جائے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا کہ ہاؤسنگ امداد سے محرومی کے باعث کم آمدنی والے خاندان خوراک، صحت اور تعلیم کے بجائے اپنی محدود آمدن عارضی رہائش گاہوں کی دوبارہ تعمیر پر خرچ کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں اور ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے یا اپنی پیداواری اثاثے فروخت کرنے کی نوبت بھی آسکتی ہے۔ بینک کے مطابق اگر قدرتی آفات سے محفوظ اور مضبوط مکانات دوبارہ تعمیر نہ کیے گئے تو متاثرہ خاندان غیر محفوظ گھروں میں رہنے پر مجبور ہوں گے، جس سے مستقبل کے سیلاب، طوفان، زلزلوں اور شدید گرمی کی لہروں کے دوران ان کے نقصان کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔ عالمی بینک نے زور دیا کہ تصدیق شدہ اور مستحق خاندانوں کو امداد سے محروم کرنے سے شکایات، عدم مساوات اور ناانصافی کے احساس میں اضافہ ہوسکتا ہے اور سرکاری اداروں و ترقیاتی پروگراموں پر عوامی اعتماد مزید کم ہوسکتا ہے؛ اس لیے منصوبے کی تکمیل تک قانونی، انتظامی اور ساکھ سے متعلق خطرات کم کرنے کے لیے شفاف اور قابلِ اعتماد شکایات کے ازالے کا نظام ضروری ہے۔